خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 63 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 63

63 حدیث کا درس جاری رہے عالم باعمل ہو۔اس میں يعلمهم الكتب والحكمة کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے کیونکہ الکتب کے معنے قرآن شریف ہیں اور الحكمة کے معنے بعض ائمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔اس طرح یعلمهم الكتب والحكمة كے معنى ہوئے قرآن و حدیث سکھائے۔(انوار العلوم جلد 2 ص 33) اصل مقصود : حضور نے تمام جماعتی نظام کا اصل مقصود بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمارا اصل پروگرام تو وہی ہے جو قرآن کریم میں ہے۔لجنہ اماء اللہ ہو مجلس انصار ہو، خدام الاحمدیہ ہو نیشنل لیگ ہو، غرضیکہ ہماری کوئی انجمن ہو، اس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے اور جب ہر ایک احمدی یہی سمجھتا ہے کہ قرآن کریم میں سب ہدایات دے دی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مضر نہیں تو اس کے سوا اور کوئی پروگرام ہو ہی کیا سکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اصل پروگرام تو وہی ہے اس میں سے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق بعض چیزوں پر زور دے دیا جاتا ہے۔لیکن جب روزے رکھے جار ہے ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ حج منسوخ ہو گیا بلکہ چونکہ وہ دن روزوں کے ہوتے ہیں اس لئے روزے رکھے جاتے ہیں۔جب ہم کوئی پروگرام تجویز کرتے ہیں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس وقت یہ امراض پیدا ہو گئے ہیں اور ان کے لئے یہ قرآنی نسخہ ہم استعمال کرتے ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ سارا پروگرام سامنے ہو اور اس میں سے حالات کے مطابق باتیں لے لی جائیں۔لیکن اگر سارا پروگرام سامنے نہ ہو تو اس کا ایک نقص یہ ہوگا کہ صرف چند باتوں کو دین سمجھ لیا جائے گا۔(مشعل راه جلد اول ص 103) حضور نے 21 نومبر 1947ء کو خاص طور پر اس موضوع پر خطبہ جمعہ دیا کہ اگر ہماری جماعت قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔چنانچہ فرمایا:۔سلسلہ الہیہ کو سلسلہ الہیہ مجھنا اور اس کی تعلیم پر عمل نہ کرنا بالکل لغو اور فضول ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات عذاب الہی کو بھڑ کانے کا موجب بن جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے کا اتنا رواج دے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی نہ رہے جسے قرآن نہ آتا