خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 584 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 584

584 چکا ہوں۔بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا یہ باپوں کی بھی ذمہ داری ہے۔یہ ماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ انٹرنیٹ کے رابطوں کے بارے میں بچوں کو ہوشیار کر میں خاص طور پر بچیوں کو۔اللہ تعالیٰ (الفضل 13 دسمبر 2005ء) ہماری بچیوں کو محفوظ رکھے۔آمین مخفی شرک: اسی طرح کمپیوٹر اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے نمازوں میں سستی کے بارہ میں حضور اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 2005ء میں فرماتے ہیں۔و کسی سے بھی ضرورت سے زیادہ محبت یا اپنے کسی کام میں بھی ضرورت سے زیادہ غرق ہونا اس حد تک Involve ہو جانا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہوش ہی نہ رہے ، یہ شرک ہے۔کاروباری آدمی ہے یا ملا زمت پیشہ ہے۔اگر نمازوں کو بھول کر ہر وقت صرف اپنے کام کی ، پیسہ کمانے کی فکر ہی رہے تو ی بھی شرک ہے۔نوجوان اگر کمپیوٹر یا دوسری کھیلوں وغیرہ یا مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں جس سے وہ اللہ کی عبادت کو بھول رہے ہیں تو یہ بھی شرک ہے۔پھر گھروں میں بعض ظاہری شرک بھی غیر محسوس طریقے سے چل رہے ہوتے ہیں، اس کا احساس نہیں ہوتا۔ایک طرف تو احمدی کہلاتے ہیں گو یہ بہت کم احمدی گھروں میں ہے جبکہ دوسرے لوگوں میں بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی ایک آدھے گھر میں بھی کیوں ہو۔ایسے گھروں میں بعض دفعہ ایسی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جن میں گند اور غلاظت کے علاوہ دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا کو دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔پھر ان مورتیوں کو جو پوجنے والے ہیں یہ لوگ اپنے گھروں میں ان چیزوں کو رکھتے ہیں، شیلفوں میں سجا کر رکھا ہوتا ہے یا بعض خاص جگہ پر رکھا ہوتا ہے۔تو ڈراموں میں دیکھ دیکھ کر ان کے دیکھا دیکھی بعض اپنے گھروں میں بھی ان مورتیوں کو سجا لیتے ہیں۔بازار میں ملنے لگ گئی ہیں کہ سجاوٹ کر رہے ہیں۔اپنے گھروں میں ڈرائنگ رومز وغیرہ میں شیلفوں میں رکھ لیتے ہیں۔تو پھر ان فلموں کو دیکھنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ احساس ختم ہو جاتا ہے۔ان مورتیوں کو گھروں میں رکھنے کی وجہ سے، چاہے سجاوٹ کے طور پر ہی ہوں ، احساس مرجاتا ہے۔اور اگر کسی گھر میں عبادتوں میں سستی ہے، نمازوں میں سستی ہے تو ایسے گھروں میں پھر بڑی تیزی سے گراوٹ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہر احمدی کو نہ صرف ان لغویات سے پر ہیز کرنا ہے بلکہ اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی