خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 583
583 لوگوں پر الزام تراشیاں بھی ہو رہی ہوتی ہیں، لوگوں کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہوتا ہے تو یہ بھی ایک وسیع پیمانے پر مجلس کی ایک شکل بن چکی ہے اس لئے اس سے بھی بچنا چاہئے۔الفضل 12 اکتوبر 2004ء) انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے بچنے کی کوشش کریں حضور انور نے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ یو۔کے موقع پر 19 اکتوبر 2003ء کو اپنے خطاب میں فرمایا:۔بعض لڑکے لڑکی بن کر بات چیت کر رہے ہوتے ہیں۔جب جماعت کا تعارف ہو جائے تو لڑکی خوش ہو جاتی ہے کہ چلو تبلیغ ہورہی ہے۔اگر آپ کی نیت صاف ہے تو دوسری طرف جولڑکا لڑکی بن کر بیٹھا ہوا ہے آپ کو کیا پتہ کہ اس کی کیا نیت ہے۔پھر بعض اوقات تصویروں کے تبادلے شروع ہو جاتے ہیں بعض جگہوں پر رشتے بھی ہوئے ہیں اور بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں۔انٹرنیٹ ایک معاشرتی برائی بن کر سامنے آ رہا ہے اگر تبلیغ ہی کرنی ہے تو لڑکیاں لڑکیوں ہی کو تبلیغ کریں ،لڑکوں کو نہ کریں یہ کام لڑکوں کے لئے ہی رہنے دیں والدین اس بات پر نظر رکھیں کہ کھلے طور پر انٹرنیٹ کے رابطے نہیں ہونے چاہئیں جو شعور کی عمر کے ہیں وہ خود بھی ہوش کریں۔“ نیز فرمایا ہوش کریں ورنہ یا د رکھیں کہ احمدی ماؤں کو کوکھ سے نکلنے والے بچے آپ غیروں کی گود میں دے رہی ہوں گی۔خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004ء میں فرمایا: (الفضل 8 مارچ 2004ء ) | ایسے ملازمین یا ملازمائیں جو رکھی جاتی ہیں ان سے احتیاط کرنی چاہئے اور بغیر تحقیق کے نہیں رکھنی چاہئی۔اب اس طرح کا کام بری عورتوں والا انٹرنیٹ نے بھی شروع کر دیا ہے جرمنی وغیرہ اور بعض دیگر ممالک میں ایسی شکایات پیدا ہوتی ہیں کہ بعض لوگوں کے گروہ بنے ہوئے ہیں۔جو آہستہ آہستہ پہلے علمی باتیں کر کے یا دوسری باتیں کر کے چارہ ڈالتے ہیں اور پھر دوستیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر غلط راستوں پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے میں متعدد بار انٹر نیٹ کے رابطوں کے بارہ میں احتیاط کا کہہ