خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 538
538 میں نے کہا تبلیغ بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ مساجد بناتے چلے جائیں تو یہ چھوٹا سا ملک ہے اس میں جب مساجد بنائیں گے، ان کے مناروں سے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آواز گونجے گی اور آپ لوگوں کے عمل اور عبادتوں کے معیار بڑھیں گے تو یقیناً ان لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی اور آپ لوگ ان کی غلط فہمیاں دور کرنے والے بن جائیں گئے“۔تعمیر مساجد کا حیرت انگیز سلسلہ ( الفضل یکم مارچ 2007 ء ) حضور کی مسلسل تحریکات کے نتیجہ میں خلافت خامسہ میں مساجد کی تعمیر کا ایک نیا دور شروع ہوا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضورانور خطبہ جمعہ 8 جولائی 2005ء میں فرماتے ہیں:۔میں مساجد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کی مختلف جماعتوں میں مساجد کی تعمیر کی طرف یا بڑی عمارت خرید کر ان کو مسجدوں میں تبدیل کرنے یا نماز سینٹر قائم کرنے اور خرید کر قائم کرنے کی طرف رجمان کافی بڑھا ہے۔چنانچہ اس دورے کے دوران بھی پہلے جو افریقہ کا دورہ ہوا۔مختلف افریقہ کے ممالک میں مساجد کا سنگ بنیا درکھا۔چار مساجد کا سنگ بنیاد رکھا اور چھ نئی مساجد کا افتتاح ہوا۔افریقہ میں تو بہت غربت ہے، تھوڑا بہت اپنے وسائل سے لوگ اپنی مسجدوں کی تعمیر میں حصہ ڈالتے ہیں بہر حال اپنے لحاظ سے جس قدر قربانی اور اخلاص کا وہ اظہار کر سکتے ہیں کرتے ہیں۔ان ملکوں میں زیادہ تر مرکزی طور پر یا یہ بھی ہوا ہے کہ بعض دوسرے ملکوں کے مخیر حضرات نے مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔اور لے رہے ہیں۔U۔K کے بھی بعض افرادان میں شامل ہیں۔مشرقی افریقہ میں مغربی افریقہ کی طرح عموماً احمدی اتنے خوشحال نہیں ہیں جیسے مغربی افریقہ میں ہیں۔وہاں تو ایک ایک احمدی خود بھی بڑی بڑی مساجد تعمیر کروا دیتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا مشرقی افریقہ کے رہنے والے احمدیوں کے وسائل عموماً اتنے نہیں ہیں لیکن کینیا میں مثلاً ایشین احمدی یا پاکستانی، ہندوستانی Origin کے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے رہا ہے اور وہ مساجد کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔بلکہ بعض مساجد جن کی میں نے بنیادیں رکھی ہیں ان کی تعمیر کا مکمل خرچ ان میں سے ایک ایک آدمی نے یا ان کی ایک فیملی نے برداشت کیا ہے۔اسی طرح یوگنڈا میں کچھ نسبتا بعض احمدیوں کے حالات بہتر ہیں