خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 38
38 کامیابی بھی اب تک ہوئی ہے اور آئندہ زیادہ امید ہے۔چونکہ کام نفسانی جوش سے نہیں شروع کیا گیا۔اس لئے انشاء اللہ تعالیٰ دن بدن اس میں زیادہ سے زیادہ برکت ہونے کی امید ہے۔اکثر احباب پر یہ امر پوشیدہ تھا۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اخبار میں درج کر کے کل احباب پر واضح اور مبرہن کر دیا جاوے کہ ہر ایک اہل وسعت احمدی، ضعفاء کے لئے حسب مقدور کچھ نہ کچھ عنایت فرما کر میری دستگیری فرمادے، اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرے۔پرانے جوتے پرانے کپڑے ، نقد و جنس ، جس قسم کی ہو۔قرآن شریف و کتب دینیہ، غرض جو کچھ ہو سکے عنایت فرماویں اور اس عاجز کوکسی خوشی و غمی کی تقریب میں فراموش نہ کریں۔یہ عاجز اور میرے ضعفاء ان کے حق میں دعا کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ دعا کرتے رہیں گے۔جس کا فائدہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں نظر آتا رہے گا اور یہ دینی خدمت ان کی خالی نہیں جانے کی۔امید ہے کہ لوگ ضرور متوجہ ہوں گے۔اور پنبہ غفلت کانوں سے نکال کر میری عرض سنیں گے۔کوئی تعداد میں مقرر نہیں کرتا۔ایک روپیہ، دس روپیہ، سو روپیہ 8 آنے ، 4 آنے ، 2 آنے ، ایک آنہ جو ہو، ماہانہ ، سالانہ ، ششماہی ، سہ ماہی بھیج دیا کریں۔نیا پرانا کپڑا۔نیا یا پرانا جوتا، کوئی قرآن شریف یا دینی کتاب، جو کچھ میسر ہو وہ عطا فرما دیں۔لیکن یہ چیزیں بنام اس عاجز کے ہوں۔ناصر نواب از قادیان ( بدر 19 جنوری 1911ء ص 8 کالم نمبر 1) علمی تحریکات علم تعبیر الرویا سے متعلق تحریک 1912ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے ایک ایسی تحریک فرمائی جو حضور کے مخصوص عالمانہ مزاج کی آئینہ دار ہے۔آپ نے سورۃ یوسف کا درس دیتے ہوئے تعبیر الرویا کے بارہ میں تحریک کی اور فرمایا: سوره یوسف پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الرویا بھی ایک بڑا علم ہے۔خواہیں کافر کی بھی ہوتی ہیں ، مومن کی بھی ، یہ علم اللہ تعالیٰ اپنے بعض انبیاء کو دیتا ہے اور ان سے ورثہ میں علماء امت محمدیہ کو بھی پہنچا ہے۔چنانچہ پہلے مسلمانوں نے اس فن پر بہت عمدہ کتا بیں لکھی ہیں۔کامل اتعبیر اور تعطیر الا نام مجھے بہت پسند ہیں۔آجکل کے نئی روشنی کے تعلیم یافتہ اور جنٹلمین تو خوابوں کو پریشان خیالات کا