خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 531
531 دے رہے تو ہو سکتا ہے کہ غیر موصی دوسرے چندے شامل کر کے موصیان سے زیادہ قربانی کر رہے ہوں۔تو اس لحاظ سے واضح کر دوں کہ کوئی بھی چندہ دینے والا ، چاہے وہ موصی ہیں یا غیر موصی ہیں اگر توفیق ہے تو تمام تحریکات میں چندے دینے چاہئیں کیونکہ ہر تحریک اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے الفضل 25 اپریل 2006ء ص 6,5) بڑی اہم ہے۔حسابات صاف رکھنے کی تحریک: موصیان کو چندہ کا حساب رکھنے اور بر وقت ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے خطبہ جمعہ 28 مئی 2004ء میں حضور نے فرمایا:۔خاص طور پر موصی صاحبان کے لئے میں یہاں کہتا ہوں ان کو تو خاص طور پر اس بارے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے۔اس انتظار میں نہ بیٹھے رہیں کہ دفتر ہمارا حساب بھیجے گا یا شعبہ مال یاد کروائے گا تو پھر ہم نے چندہ ادا کرنا ہے۔کیونکہ پھر یہ بڑھتے بڑھتے اس قدر ہو جاتا ہے کہ پھر دینے میں مشکل پیش آتی ہے۔چندے کی ادائیگی میں مشکل پیش آتی ہے۔پھر اتنی طاقت ہی نہیں رہتی کہ یکمشت چندہ ادا کر سکیں۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ کچھ رعایت کی جائے اور رعایت کی قسطیں بھی اگر مقرر کی جائیں تو وہ چھ ماہ سے زیادہ کی تو نہیں ہو سکتیں۔اس طرح خاص طور پر موصیان کی وصیت پر زد پڑتی ہے تو پھر ظاہر ہے ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور پھر اس تکلیف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔تو اس لئے پہلے ہی چاہئے کہ سوچ سمجھ کر اپنے حسابات صاف رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور جب بھی آمد ہو اس آمد میں جو حصہ بھی ہے نکالیں ، موصی صاحبان بھی اور دوسرے کمانے والے بھی جنہوں نے چندہ عام دینا ہے، 1/16 حصہ، اپنا چندہ اپنی آمد میں سے ساتھ کے ساتھ ادا کرتے رہا کریں۔(الفضل 24 /اگست 2004 ء ) نیکی کا عمدہ نمونہ بننے کی تحریک: 25 دسمبر 2006ء کو خدام الاحمدیہ جرمنی کی عاملہ کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :۔جو افراد وصیت کرتے ہیں ان سے مل کر یہ جائزہ لیں کہ اس نظام میں شمولیت کے بعد ان کی طبیعت ، تربیت اور جماعتی تعاون میں کیا فرق پڑا ہے۔پھر ان باتوں سے دوسرے خدام کو آگاہ کر کے انہیں بھی اس نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔( الفضل 6 جنوری 2007ء)