خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 530
530 اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے۔حضور انور نے فرمایا یا د رکھیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود کی جو دعائیں پڑھی ہیں یہ اس لئے پڑھ کر سنائی ہیں کہ جب نیک نیتی کے ساتھ اس نظام میں وابستہ ہوں گے تو حضرت اقدس مسیح موعود کی دعاؤں کے طفیل آپ کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ ہوگی۔پس آگے بڑھیں اور اس پاک نظام میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے معیار حاصل کرتے جائیں جن کی طرف تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے توجہ دلائی ہے۔حضور نے فرمایا مجھے گزشتہ سال کسی نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہجری قمری کے لحاظ سے 2005ء میں خلافت کو بھی سو سال پورے ہورہے ہیں۔لیکن بہر حال اس لحاظ سے آج وصیت کے نظام کو سو سال پورے ہونے کے علاوہ قمری سال کے لحاظ سے خلافت احمدیہ کو بھی سو سال پورے ہو گئے ہیں۔۔۔پہلے اس لحاظ سے سوچ کر یہاں آنے کا پروگرام نہیں بنا تھا اور باوجود ایسے حالات کے جن کو موافق نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ دونوں لحاظ سے صدیوں کے پورا ہونے پر خلیفہ وقت وہاں موجود ہے جہاں سے یہ پیغام دنیا کو دیا گیا تھا جہاں سے خلافت احمدیہ کا آغاز ہوا تھا۔الفضل انٹر نیشنل 3 فروری 2006ء ) مالی قربانی کا اعلیٰ معیار پیش کرنے کا ارشاد: حضور نے خطبہ جمعہ 31 مارچ 2006ء میں فرمایا: چندوں کے بارہ میں بعض جماعتوں کے بعض استفسار ہوتے ہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ وضاحت کر دوں۔ایک تو یہ کہ آج کل وصیت کی طرف بہت توجہ ہے۔اور وصیت کی طرف توجہ تو ہو گئی ہے لیکن تربیت کی کافی کمی ہے۔اس لئے بعض موصیان یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ ہم نے وصیت کی ہوئی ہے اس لئے ہم صرف وصیت کا چندہ دیں گے باقی ذیلی تنظیموں کے چندے یا مختلف تحریکات کے چندے ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔تو یہ واضح ہو، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر تو حالات ایسے ہوں کہ تمام چندے نہ دے سکتے ہوں تو اس کی اجازت لے لیں۔ورنہ توقع ایک موصی سے یہ کی جاتی ہے کہ ایک موصی کا معیار قربانی دوسروں کی نسبت، غیر موصی کی نسبت زیادہ ہونا چاہئے۔تو اگر وصیت کا صرف کم سے کم 1/10 حصہ سے دے کر باقی چندے نہیں