خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 483
483 توسیع مکان بھارت فنڈ 28 مارچ 1986ء کو مسجد فضل لندن میں خطبہ جمعہ میں اس تحریک کا اعلان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔”ہندوستان کی جماعتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعداد کے لحاظ سے بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اموال کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر رنگ میں برکت نصیب ہوئی ہے اس کے باوجود ہندوستان کی جماعت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوئی۔اب جماعت کی طرف سے جو فوری ضروریات سامنے آئی ہیں ان میں کچھ تو مقامات مقدسہ کی ضروری مرمتیں ہیں۔اس کے علاوہ دہلی میں جماعت کا شاندار مرکز بننے والا ہے۔کانپور میں جماعت کو مرکز کی ضرورت ہے اور بھی بہت سی ضرورتیں ہیں۔میں نے جو اندازہ لگایا ہے میرے خیال میں چالیس پچاس لاکھ روپے تک کی ضرورت ہے مگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بیرون ہندوستان عام تحریک نہ کی جائے۔اس لئے اس تحریک کی جو میں کرنے لگا ہوں دو تین صورتیں ہیں۔جن کو ملحوظ رکھ کر جن لوگوں کو قربانی کرنی ہے۔قربانی پیش کریں۔ایک تو یہ کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور گزشتہ کوتاہیوں اور غفلتوں سے معافی مانگیں اور قربانی کے معیار میں دنیا کی باقی جماعتوں کے ساتھ چلنے کا عزم کر لیں۔اگر وہ عزم کریں گے اور دعا کریں تو اللہ تعالیٰ توفیق بھی عطا فرمادے گا اور میں جانتا ہوں کہ ہندوستان کی جماعتوں کو یہ توفیق ہے اگر چاہیں تو بہت آسانی کے ساتھ یہ معمولی رقم پوری کر سکتی ہیں۔دوسرے درجہ پر وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن باہر چلے گئے ہیں اگر یہ سارے چاہیں تو چالیس لاکھ کیا سارے چندوں کے علاوہ بھی کروڑوں روپیہ پیش کر سکتے ہیں۔۔۔۔میں اپیل کرتا ہوں ان ہندوستانی نژاد احمدیوں سے کہ وہ اس مالی قربانی میں آگئے آئیں اور ہندوستان کی ساری ضرورتیں پوری کریں۔اور تیسرے درجہ پر میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی انفرادی طور پر اپنا یہ حق جتلائے (جماعتی تحریک نہیں ہوگی) کہ قادیان کا تعلق ساری دنیا کی جماعتوں سے ہے۔ہمیں بھی تعلق ہے ہم اپنے دل