خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 32
32 مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈنگ کے لئے تحریک مدرسہ تعلیم الاسلام کو جاری کرنے کے لئے اکتوبر 1897ء میں اشتہار دیا گیا تھا اور جنوری 1898ء میں افتتاح ہوا تھا۔اور اس مدرسہ نے اس قدر ترقی حاصل کی تھی کہ کالج بن گیا اور اس میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جیسے جلیل القدر انسان بھی کچھ وقت دیتے رہے مگر بعد ازاں یو نیورسٹی کمیشن کی ہدایات کے ماتحت کالج مذکور کو بند کرنا پڑا۔ورنہ کا لج بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔بہر حال اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈ نگ تعلیم الاسلام، جو اندرون قصبہ کچی عمارتوں میں تھے ، ان کے لئے باہر کھلی فضا میں بڑی عمدہ عمارتیں تعمیر کروائی جائیں۔اس لئے خلافت اولیٰ کی ابتداء ہی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی کے سامنے قصبہ کی جانب مدرسہ اور بورڈنگ ہاؤس کے لئے شاندار عمارتیں تعمیر کی جائیں۔چنانچہ اس کام کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی اور جب کچھ روپیہ جمع ہو گیا تو اینٹیں تیار کرنے کے لئے بھٹہ بنوایا گیا اور چونکہ بورڈنگ ہاؤس کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی۔اس لئے مجلس معتمدین نے فیصلہ کیا کہ پہلے بورڈنگ ہاؤس کی عمارت تعمیر کی جائے جس کے خرچ کا اندازہ چالیس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ رقم کا تھا، مگر چونکہ دس ہزار روپیہ چندہ گزشتہ سال جمع ہو چکا تھا، اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے حکم سے بقیہ میں ہزار روپیہ کی فراہمی کے لئے تحریک کی گئی۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے اس رقم کی فراہمی کے لئے ایک وفد بھی مقرر فرمایا۔جس نے سب سے پہلے قادیان میں اپنا کام شروع کیا۔احباب قادیان نے اس مبارک کام کے لئے سولہ سو روپیہ دینے کا وعدہ کیا اور حضرت خلیفتہ المسیح کے چھ سوروپیہ کے چندہ سے جو کل رقم کا پچاسواں حصہ تھا، اس مبارک کام کی ابتداء کی گئی۔( بدر 13 مئی 1909 ء ص 6 کالم نمبر (2) چنانچہ 1910ء ہی میں بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالی شان اور وسیع عمارت کی بنیا د رکھی گئی ، جس کے تین پہلو ستمبر 1910 ء تک مکمل ہوئے اور باقی بعد میں چند ماہ تک مکمل ہو گئے۔جس میں قریباً دوسو بورڈروں کی گنجائش تھی۔اس بورڈنگ ہاؤس میں رہائشی کمروں کے علاوہ کھانا کھانے اور پڑھائی کرنے کے لئے ایک وسیع ہال بھی تھا۔بورڈنگ ہاؤس اور اس سے متعلقہ عمارات پر جو