خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 460 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 460

460 اسی طرح دیگر تنظیموں نے بھی بھر پور خدمت کا حق ادا کیا۔اس کی کسی قدر تفصیل الفضل 9 فروری اور 4 مارچ 1999ء میں موجود ہے۔انفرادی خدمت کا دائرہ اس کے علاوہ ہے۔یہ سلسلہ بھی مستقل اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اسیران کی خدمت کی تحریک حضور نے 4 دسمبر 1987ء کومسجد فضل لندن میں نظام شفاعت پر ایک پر مغز اور روح پرور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور بتایا کہ انسان فرشتوں کے ساتھ ان کی صفات اور کاموں میں ہم آہنگی پیدا کر کے تعلق قائم کر سکتا ہے اور پھر وہ فرشتے اس فرد کے لئے خدا کے اذن سے اس کے حضور شفاعت کرتے ہیں۔خطبہ کے آخر پر فرمایا:۔اس پہلو پر غور کرتے ہوئے مجھے اسیران راہ مولیٰ کا خیال آیا۔بہت دعائیں کی ہیں ان کے لئے۔ساری جماعت دعائیں کر رہی ہے اور دلوں میں بہت درد ہے اور ساری دنیا کی جماعت کے دلوں میں درد ہے اور ابھی تک ان کا ابتلا لمبا ہورہا ہے۔مجھے اس شفاعت کے مضمون پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی خاطر ہم ہر دوسرے اسیر سے تعلق رکھنا شروع کر دیں۔اسیران خواہ راہ مولیٰ کے ہوں یا کسی اور قسم کے ہوں۔اسیران کی بہبود کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تا کہ خدا کے فرشتوں سے ہمارا تعلق قائم ہو جائے۔ان فرشتوں سے ہمارا تعلق قائم ہو جائے جن کو اسیری کے مضمون پر مامور فرمایا گیا ہے جو اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا کرتے ہیں۔خدا کے ہاں جو مختلف قوانین جاری ہیں ان میں ایک یہ بھی قانون ہے کہ غلامی کو دور کرنے کے لئے خدا کے بعض نظام جاری ہیں۔ان کا دور بعض دفعہ ہزاروں سال کی حرکت کے بعد مکمل ہوتا ہے اور بعض دفعہ چھوٹی حرکتوں میں ان کا دور مکمل ہو جاتا ہے۔لیکن یہ بھی اپنی ذات میں ایک بہت وسیع مضمون ہے۔بہر حال یہ تو قطعی بات ہے کہ اسیروں کی رستگاری کا جو نظام ہے وہ بھی ایک معین نظام ہے اتفاقی حادثات کا نتیجہ نہیں اور اس میں خدا کے بعض فرشتے ملاء اعلیٰ پر مامور ہیں۔ان کے تابع ان گنت فرشتے بعض دوسرے کام کر رہے ہیں۔تو ہم ان کے لئے دعائیں تو کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا