خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 461
461 ان فرشتوں سے واقعتا تعلق ہے۔ہم تو ان کے لئے دعائیں اپنی محبت کے نتیجہ میں کر رہے ہیں جو ہر احمدی کو دوسرے احمدی سے ہو چکی ہے اور یہ محبت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ذی القربی کا مضمون اس میں آجاتا ہے۔یعنی ہماری محبت اسی نوع کی ہو گئی ہے جیسے ماں کو بچے سے محبت ہوتی ہے۔اس لئے ایک نفسانی تمنا بھی تو داخل ہوگئی۔ہم مجبور ہیں۔ہمیں اختیار ہی کوئی نہیں۔ہم ان کے لئے غم کرنے اور دعائیں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔لیکن خدا کے کتنے اور بندے ہیں لکھوکھہا بندے ہیں جو اسیری کے دکھ سہہ رہے ہیں۔ان میں مجرم بھی بہت ہوں گے کچھ معصوم بھی ہیں۔بلکہ بعض ممالک میں تو خدا کے لاکھوں معصوم بندے ہیں۔ان کی اسیری خدا کی خاطر نہیں اس لئے اجر کا بھی کوئی وعدہ نہیں۔بڑے ہی مظلوم لوگ ہیں۔جماعت احمدیہ کو اگر ساری دنیا میں اس طرف توجہ پیدا ہو اور جیل خانوں میں جو لوگ جاسکتے ہیں وہاں اسیروں سے رابطے پیدا کئے جائیں ان کے دکھ معلوم کئے جائیں۔میں جانتا ہوں کہ سمندر میں قطرے کے برابر کوشش ہوگی۔مگر ہمارے قطرے کے دائرے میں ہمارے مسائل تو حل ہو جائیں گے۔جو ہمارا مقصد ہے وہ تو پورا ہو جائے گا۔ایک اور مقصد بھی پورا ہوگا جس سے ہمارے اندر جلا پیدا ہوگی۔ہماری انسانی قدریں پہلے سے زیادہ چمک اٹھیں گی۔لیکن نیت یہ رکھیں کہ ہم اسیروں سے براہ راست تعلق قائم کریں تا کہ ان فرشتوں کی نظر میں آجائیں جو اسیری کے کاموں پر مامور ہیں اور جس طرح ہم نے عملاً دنیا میں مشاہدہ کیا ہے کہ جس خدمت کے کام پر کوئی خاص تعلق سے اپنے دائرہ خدمت کو سیع کرتا ہے خدا کے فرشتوں کالا زما اس سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اور وہ اس کے حق میں معجزے دکھاتے ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے جو اس کام پر مامور ہیں ہمارے ان بھائیوں کے لئے اعجاز دکھائیں اور اس حد تک آپ اس مضمون کو آگے بڑھائیں کہ یہ شفاعت کے مضمون میں داخل ہو جائے اور آسمان پر خدا کے فرشتے خدا کے حضور شفاعت کریں کہ راہ مولیٰ میں اسیری کے دکھ اٹھانے والوں کے دن اب آسان فرما دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(ماہنامہ خالد جنوری 1988ءص13) جماعت نے اس تحریک پر بھی لبیک کہا اور خصوصاً پاکستان کی جیلوں میں اسیران کی بہبود کے لئے کوششیں کی گئیں عیدین وغیرہ کے موقع پر ان کو خصوصی تحائف بھجوائے جاتے ہیں۔