خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 455
455 اس تحریک کو دہرایا اور جماعت کو بتایا کہ گو اس تحریک پر زور نہیں دیا گیا تھا یہ عام تحریک تھی پھر بھی جماعت کو خدا تعالیٰ نے ساڑھے چودہ لاکھ روپے کے لگ بھگ رقم ادا کرنے کی توفیق دے دی۔حضور نے اس سکیم کو مزید وسعت دینے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ:۔میں چاہتا ہوں کہ جلسہ جو بلی تک ہم کم از کم ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکان بنا کر غربا کو مہیا کردیں۔خود حضور نے اپنا وعدہ دس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر دیا۔ایک سال کے اندراندر جماعت کے وعدے ایک کروڑ سے اوپر نکل گئے۔ایک نوجوان کا تذکرہ کرتے ہوئے جلسہ 1983 ء پر حضور نے فرمایا:۔میں ایک غریب کی قربانی کا ذکر بتاتا ہوں۔ایک نوجوان بچہ ہے جو کہ سکول کا طالبعلم ہے وہ لکھتا ہے میری والدہ بیوہ ہے۔وہ گھروں میں کام کرتی ہے نوے روپے ملتے ہیں میرے پاس کاپی خرید نے کے لئے پانچ روپے تھے جب میں نے بیوت الحمد کی آواز سنی تو میں وہ پانچ روپے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اللہ کی یہ جماعت ہے جو اس نے مسیح موعود کو عطا کی ہے۔کوئی ہے اس کی نظیر دنیا میں“۔الفضل 14 اپریل 1984 ء ) مورخہ 11 نومبر 1987ء کو بیوت الحمد منصوبہ کے تحت بیوت الحمد کالونی کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور آج الحمد للہ ربوہ میں بیوت الحمد کا لونی ربوہ میں سینکڑوں لوگ سکونت پذیر ہیں اور کالونی میں 100 کوارٹرز کے علاوہ ایک مسجد، سکول اور خوبصورت پارک بھی موجود ہے۔اس سکیم کے تحت سینکڑوں افراد کو تعمیر مکان کے لئے لاکھوں روپے کی امداد دی جا چکی ہے۔اس بیوت الحمد کالونی کے درمیان ایک خوبصورت پارک بھی بنایا گیا ہے۔اسی طرح قادیان میں بھی غربا کے لئے کوارٹرز بنائے گئے ہیں۔عید کے موقعہ پر غربا کے ساتھ سکھ بانٹنے کی تحریک حضور نے عید منانے کے انداز میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا کرنے کی طرف جماعت کو توجہ دلائی۔12 جولائی 1983 ء کو حضور نے خطبہ عید الفطر میں فرمایا کہ جو لوگ عید کی لذتوں سے محروم رہتے