خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 23
23 افسر مدرسہ احمد یہ رہے اسی دور میں مدرسہ کی الگ بورڈنگ، طلباء کے لئے ٹاٹ کی بجائے کرسیوں اور مدرسہ کی الگ لائبریری کا انتظام ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے دور خلافت میں اس مدرسہ کو بہت وسعت دی اور حضور نے 1928 ء میں اسے جامعہ احمدیہ کا نام دے کر اس کا افتتاح فرمایا اور حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو اس کا پہلا پرنسپل مقرر فر مایا۔جامعہ احمدیہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو ولتکن منکم (-) کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں۔تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج (یعنی جامعہ احمدیہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں۔ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی، بعض کو جرمنی ، بعض کو سنسکرت ،بعض کو روسی ، بعض کو سپینش و غیرہ زبانوں کی اعلی تعلیم دینی چاہئے کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے“۔(انوار العلوم جلد 10 ص214) 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے جملہ اساتذہ وطلباء پہلے لاہور آئے جہاں 13 نومبر 1947ء کو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کو مدغم کر کے ادارہ شروع ہوا چند ماہ بعد یہ ادارہ چنیوٹ آیا جہاں سے تقریباً دو ماہ بعد احمد گر منتقل ہو گیا۔چند سال کے بعد یہ ادارہ مستقل طور پر ربوہ آگیا۔1949ء میں حضرت مصلح موعود نے جامعۃ المبشرین کا آغاز فرمایا۔جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جو طلباء اپنی زندگی وقف کرتے وہ اس میں مزید دو سال تعلیم حاصل کرتے تھے۔بالآخر جامعتہ المبشرین بھی 7 جولائی 1957ء کو جامعہ احمدیہ میں مدغم کر دیا گیا۔خلافت رابعہ میں ستمبر 1994 ء سے جامعہ احمدیہ کو انٹر نیشنل جامعہ احمدیہ کا نام دیا گیا اور ایک Revised نصاب سات سال کے عرصے پر محیط ، جاری کیا گیا۔یہ یہ نصاب تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔پہلا مرحله دو سال ، دوسرا تین سال اور تیسرا پھر دو سال پر مشتمل ہے۔یکم ستمبر 2002ء میں واقفین نو کی بڑھتی ہوئی تعداد کے جامعہ میں آنے کی توقع پر جامعہ احمد یہ ربوہ کو