خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 360
360 فضل عمر فاؤنڈیشن سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نصف صدی سے زائد عرصہ جماعت کی شاندار قیادت فرمائی اور جماعت کے ہر شعبہ کو ترقیات کے نئے نئے سنگ میل عطا کئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے حضرت مصلح موعود کی یادگار کے طور پر جلسہ سالانہ 1965ء پر آپ کے محبوب مقاصد کو جاری رکھنے کے لئے فضل عمر فاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان فرمایا۔حضور نے اس مقصد کے لئے 25لاکھ روپیہ کا سرمایہ 3 سال کے اندر اکٹھا کرنے کی تحریک فرمائی۔احباب جماعت نے اس پر لبیک کہا اور موصولہ عطایا کی مقدار نقد اور موصو بہ جائیداد کی صورت میں 45 لاکھ تک پہنچ گئی۔( الفضل خلیفہ ثالث نمبر ص 35) یوں تو جماعت کے تمام ادارے اور پروگرام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں مگر خاص آپ کے نام نامی سے موسوم اس تحریک نے احباب جماعت کے دلوں میں بے پناہ ولولہ پیدا کر دیا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس تحریک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک محبت و عقیدت کے اس چشمہ سے پھوٹی ہے جو احباب کے دل میں اپنے پیارے آقا اصلح الموعودؓ کے لئے ہمیشہ موجزن رہی اور موجزن رہے گی۔پھر فرمایا: (الفضل یکم جون 1966 ء ) د فضل عمر فاؤنڈیشن تو دراصل اظہار ہے اس محبت کا جو ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کے لئے پیدا کی اور یہ محبت اس لئے پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو جماعت پر بحیثیت جماعت اور لاکھوں افراد جماعت پر بحیثیت افراد بیشمار احسانات کرنے کی توفیق عطا فرمائی تو خدا تعالیٰ کے حمد وشکر کے طور پر اور اس محبت کے نتیجہ میں جو ہمارے دلوں میں اس پاک وجود کے لئے ہے۔ہم نے کلمہ اسلام کی اشاعت کے لئے اس فاؤنڈیشن کو جاری کیا ہے۔(الفضل 24 مئی 1966 ء ) اس تحریک کا خوبصورت دفتر صدر انجمن احمدیہ کی عمارت کے عقب میں واقع ہے جس کا افتتاح