خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 318
318 بے شک اجتماعی طور پر بھی ہو لیکن انفرادی کام کے مواقع بھی کثرت سے پیدا کئے جائیں۔مثلاً کسی غریب کا آٹا اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کا چارہ اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کی روٹیاں پکوادی جائیں۔جب خادم روٹیاں پکوانے جائے گا تو دل میں ڈر ہو گا کہ مجھے کوئی دیکھ نہ لے اور اگر کوئی دوست اسے راستے میں مل جائے تو اسے کہے گا کہ میری اپنی نہیں فلاں غریب کی ہیں۔اس کا یہ اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ وہ اس کام کو بہتک آمیز خیال کرتا ہے۔یہ پہلا قدم ہو گا۔اسی طرح بعض اور کام اسی نوعیت کے سوچے جاسکتے ہیں۔ایسے کام کرانے سے ہماری غرض یہ ہے کہ کسی خادم میں تکبر کا شائبہ باقی نہ رہے اور اس کا نفس مرجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہر ایک کام کرنے کو تیار ہو جائے۔“ مشعل راه جلد اول ص 439) و قارعمل نہ کرنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ خدام کے سالانہ اجتماع 1945ء میں حضرت مصلح موعود وقار عمل کرنے والے خدام کو ایک اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔محلوں میں صفائی رکھنا کوئی مشکل بات نہیں۔اگر خدام تھوڑی بہت توجہ صفائی کی طرف رکھیں اور محلوں میں رہنے والے دوسرے لوگ بھی خدام سے تعاون کریں تو یہ بات بہت آسان ہو جاتی ہے۔اس بات کو دل سے نکال دینا چاہئے کہ جب تک محلہ کے تمام خدام کسی کام میں شریک نہیں ہوتے اس وقت تک کسی کام کو شروع ہی نہ کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کام کا موقعہ آئے گا مخلص اور دیانت دار خدام ہی آگے آئیں گے اور وہی شوق سے اسے سرانجام دیں گے اور جو اخلاص اور دیانت داری سے کام کرنا نہیں چاہتا اس کے لئے سو بہانے ہیں۔کہتے ہیں ”من حرامی بختاں ڈھیر۔یعنی اگر کام کرنے کو جی نہ چاہتا ہو تو انسان کو سینکڑوں جنتیں اور بہانے سوجھ جاتے ہیں اور یہ حجتوں والے تو سال میں ایک دفعہ بھی وقار عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ایسے لوگوں کے نہ آنے کی وجہ سے کام کو پیچھے نہیں ڈالنا چاہئے۔جن لوگوں کے اندر اخلاص ہے۔ان کو کیوں ایسے لوگوں کی خاطر کام سے روک رکھا جائے۔اب تو تم دوماہ کے بعد ایک دن وقار عمل کرتے ہو۔اگر تم دس سال کے بعد بھی ایک دن مقرر کرو تو بھی نہ آنے والے غائب ہی ہوں گے اور