خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 274
274 مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں وسیع پیمانہ پر تباہی ہوئی۔اس موقع پر بھی حضور کی ہدایات کے مطابق بھارت اور پاکستان کی جماعت نے خدمت خلق کے لئے نہایت قیمتی خدمات سرانجام دیں۔جسے حکومت اور پریس نے بھی بہت سراہا۔اکتوبر 1954 ء میں حضور نے لاہور کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ فرمایا اور جماعت کی طرف سے تعمیری سرگرمیاں ملاحظہ کیں۔لاہور اور ربوہ کے 200 خدام نے 75 سے زائد گرے ہوئے مکانوں کو دوبارہ تعمیر کر کے 1000 افراد کی رہائش کا انتظام کیا تھا۔( تاریخ احمدیت جلد 17 ص 336 جلد 18 ص 36 خدام الاحمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے 15 اپریل 1938ء کو فرمایا: خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہو سکے وسعت اختیار کرنی چاہئے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دور کرنا چاہئے۔خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ۔ہمارا خدا رب العالمین ہے اور جس طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔پس اگر خدا ہمیں توفیق دے تو ہمیں سب کی ( الفضل 22 اپریل 1938ء) خدمت کرنی چاہئے۔