خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 10 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 10

10 اجلاس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب بھی موجود تھے۔آپ نے بھی اس کی تائید کی اور یہ ریزولیوشن بالا تفاق پاس ہو گیا۔چنانچہ اجلاس کی روئداد میں لکھا ہے۔” جناب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب بی اے ایل ایل بی نے اس کی نہایت پُر جوش تائید کی اور جناب مرزا محمود احمد صاحب قادیانی کی تائید مزید کے بعد ووٹ لئے گئے اور تجویز مندرجہ بالا انہیں الفاظ کے ساتھ نہایت جوش کی حالت میں بالا تفاق پاس کی۔سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ”حیات شبلی کے ص 501 پر بھی اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔آخر مارچ 1913ء میں مسٹر غزنوی ( بنگال کے ممبر ) نے بنگال کونسل میں اس کے متعلق گورنمنٹ سے سوال کیا۔سرکاری ممبر نے اس کا جواب تسلی بخش دیا اور گورنمنٹ بنگال نے نماز جمعہ کے لئے دو گھنٹہ کی چھٹی منظور کر لی۔مولانا شبلی نے اس پر ایک اور میموریل تیار کرایا جس میں بنگال گورنمنٹ کے فیاضانہ حکم کا حوالہ دے کر گورنمنٹ سے خواہش کی کہ جمعہ کو دو گھنٹہ کی تعطیل کی بجائے ایک بجے سے آدھے دن کی عام تعطیل دی جائے۔یہ کارروائی ابھی جاری تھی کہ مولانا شبلی انتقال فرما گئے مگر اس میموریل کا یہ اثر ہوا کہ اکثر صوبوں میں ملازمین کو نماز جمعہ میں جانے کی اجازت مل گئی۔( تاریخ احمدیت جلد 3 ص 379 تا 381 ) اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ جمعہ کی برکات سے بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہے اور خلیفہ وقت کے عالمی خطبہ جمعہ کے ذریعہ امت واحدہ کی شکل میں عظیم نمونہ دکھا رہی ہے۔چنانچہ آج ساری دنیا میں جو وحدت جماعت احمدیہ کو حاصل ہے اس کا عشر عشیر بھی کہیں نظر نہیں آتا۔جماعت احمد یہ ایک بنیان مرصوص کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا باہمی تعاون اور الفت مثالی ہے و اگر کبھی جوانی بشری کی بنا پر جھگڑے پیدا ہوں تو ان کو مٹانے کے لئے مربوط نظام موجود ہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جماعت کو ہدایت کی کہ جھگڑے ختم کرنے کے لئے جہاں تک ہو سکے پنے حقوق چھوڑ دو۔چنانچہ جماعت انہی راہوں پر گامزن ہے اور مثالی معاشرہ تخلیق کر رہی ہے۔