خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 241
241 پر امداد کا کام شروع کیا گیا اور اس علاقہ میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی گندم تقسیم کی گئی۔جب قحط سالی شدت اختیار کر گئی اور بارش کا موسم گزر گیا تو لوگ اس علاقہ سے ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ لوگ قافلوں کی صورت میں تھر سے باہر نکلے تو آگے سندھ میں جانے کے لئے انہوں نے نوکوٹ میں قیام کیا تو وہاں وقف جدید کی طرف سے ان کی خوراک کا انتظام کیا گیا تو اس سلسلے میں مقامی تنظیموں نے رکاوٹ ڈالی مگر جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ خود تو کچھ مدد نہیں کرتے اور دوسروں کو مدد کرنے سے روکتے ہیں تو وہ خود بخود جماعت کی طرف سے کئے گئے انتظام سے کھانا کھانے لگے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔سندھ میں ہندوؤں کے علاقے میں تبلیغ کا کام ہوا۔یہ بھی بہت مشکل کام تھا۔یہ ہندو جو تھروں میں وہاں کے رہنے والے تھے۔وہاں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کے لئے سندھ کے آباد علاقہ میں آیا کرتے تھے تو یہاں آکر مسلمان زمینداروں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے بھی گھبراتے تھے۔غربت بھی ان کی عروج پر تھی۔بڑی بڑی زمینیں تھیں، پانی نہیں تھا اس لئے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔آمد نہیں تھی اور اسی غربت کی وجہ سے مسلمان زمیندار جن کے پاس یہ کام کرتے تھے انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان سے بیگار بھی لیتے تھے۔یا اتنی معمولی رقم دیتے تھے کہ وہ بریگار کے برابر ہی تھی۔اسی طرح عیسائی مشنوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو ان کی غربت کا فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے بھی اِن کو امداد دینی شروع کی اور اس کے ساتھ تبلیغ کر کے، لالچ دے کر عیسائیت کی طرف ان ہندوؤں کو مائل کرنا شروع کیا تو یہ ایک بہت بڑا کام تھا جو اس زمانے میں وقف جدید نے کیا اور اب تک کر رہی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور بڑے سالوں کی کوششوں کے بعد اس علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہونا شروع ہوا۔ان سب مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مددفرمائی اور بڑا فضل فرمایا، تھر کے علاقے میٹھی اور نگر پارکر وغیرہ میں ، آگے بھی جماعتیں قائم ہونا شروع ہوئیں ، ماشاء اللہ اخلاص میں بھی بڑھیں ، ان میں سے واقف زندگی بھی بنے اور اپنے لوگوں میں تبلیغ کر کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو متعارف کروایا، اس کا پیغام پہنچاتے رہے۔جب ربوہ میں جلسے ہوتے تھے تو جلسے پر یہ لوگ ربوہ آیا کرتے تھے۔میں نے دیکھا ہے کہ انتہائی مخلص اور بڑے اخلاص و وفا میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے۔اب تو ماشاء اللہ