خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 216 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 216

216 اقدس میں تحریری درخواست دی کہ انہیں تاریخ سلسلہ لکھنے کا موقعہ عطا فرمایا جائے۔لیکن حضور نے دفتر کوارشاد فرمایا کہ:۔لمصلح میں اعلان کیا جائے۔تاریخ سلسلہ کے لکھنے کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔تاریخ سے مس ہو۔ادیب ہوں تحقیق اور مطالعہ کا بہت شوق ہو۔جس تنخواہ پر آسکیں اس سے بھی اطلاع دیں۔چنانچہ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کی جانب سے اصلح 16 جولائی 1953ء ص 6 میں یہ بھی اعلان کر دیا گیا جس پر درج ذیل مقامات سے درخواستیں موصول ہوئیں۔لا ہور (2 عدد)، شیخوپورہ (2 عدد)، کراچی (ایک عدد)، لطیف نگر سٹیٹ ضلع تھر پارکر سندھ (ایک عدد) حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت بابرکت میں جب یہ سب درخواستیں مع کوائف پیش کی گئیں تو حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ درخواستوں پر کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ان میں سے سردست کوئی پورا نہیں اتر تا‘۔حضور کی معین راہنمائی چونکہ حضور تاریخ سلسلہ کے مدون کئے جانے کا عزم صمیم کر چکے تھے۔اس لئے آپ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ابتدائی مراسلہ کے قریباً سواماہ کے بعد مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کو تاریخ احمدیت کا مواد اکٹھا کرنے کے لئے نامزد فرمایا اور ان کا تقرر خلافت لائبریری میں ہوا۔آپ نے 30 اپریل 1953 ء سے لے کر 20 مئی 1955 ء تک یہ خدمت انجام دی۔حضور نے فسادات 1953ء کے واقعات کو جمع کرنے میں اولیت دینے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں انہوں نے علاوہ اخبارات ورسائل کا مطالعہ کرنے کے منٹگمری (ساہیوال) سے لے کر راولپنڈی تک کا دورہ کیا اور بہت سی چشمد ید شہادتیں جمع کر کے ان کو مرتب کیا نیز ” فسادات پنجاب 1953ء کا پس منظر“ کے عنوان سے ایک کتا بچہ بھی لکھا۔محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد لکھتے ہیں۔محترم مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ 24 جون 1953ء کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے راقم الحروف ( دوست محمد شاہد ) کو اطلاع ملی کہ حضرت اقدس نے اس عاجز کو یاد فرمایا ہے۔چنانچہ اگلے دن حضور نے شرف بازیابی بخشا اور تاریخ احمدیت کی تدوین سے