خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 196 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 196

196 کرتے ہیں لیکن اصل چیز یہ ہے کہ قوم کا ہر فرد اس میں شریک ہو۔الفضل 9 اپریل 1947 ء ) | تحریک وقف جائیدادوآمد کی کامیابی اور اس کے مفید نتائج: متحدہ ہندوستان میں ملکی حالات بد سے بدتر ہو رہے تھے اور مرکز احمدیت کے خطرات میں اضافہ ہور ہا تھا اس لئے جماعت احمدیہ کے اولوالعزم قائد اور امام حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت کے بعد بھی بار بار جماعتوں کو تحریک وقف جائیداد و آمد میں حصہ لینے اور جلد از جلد فہرستیں مکمل کر کے بھجوانے کی تحریک مسلسل جاری رکھی اور ان کو بتایا کہ یہ تحریک آئندہ عظیم الشان اسلامی عمارات کی بنیاد بنے گی۔چنانچہ 16 مئی 1947ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریک بھی ہمارے سلسلہ کی اور تحریکوں کی طرح اپنے اندر خدا تعالیٰ کی بہت بڑی حکمتیں رکھتی ہے اور اس کی خوبیاں صرف اس کی ذات تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ایک بنیاد ہے آئندہ بہت بڑے اور عظیم الشان کارناموں کو سرانجام دینے کی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی تحریک نہیں بلکہ اس تحریک کے ذریعہ ہماری جماعت کی ترقی اور سلسلہ کے مفاد کے لئے بعض نہایت ہی عظیم الشان کاموں کی بنیاد رکھی جارہی ہے گو اب تک لوگ اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھے لیکن دو چار سال تک اس کے کئی عظیم الشان فوائد جماعت کے سامنے آنے شروع ہو جائیں گے جیسے تحریک جدید کو جب شروع کیا گیا تھا تو اس تحریک کی خوبیاں جماعت کی نگاہ سے مخفی تھیں مگر اب نظر آرہا ہے کہ اس تحریک کے ذریعہ دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کا کام نہایت وسیع پیمانے پر جاری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے جتنے کام مجھ سے لئے ہیں ان تمام کاموں کے متعلق میں دیکھتا ہوں کہ در حقیقت وہ بنیاد ہوتے ہیں بعض آئندہ عظیم الشان کاموں کی۔اسی طرح یہ تحریک بنیاد ہوگی آئندہ تعمیر ہونے والی عظیم الشان اسلامی عمارات کی جس طرح میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی جو در حقیقت بنیاد تھی آج کی تحریک کے لئے مگر اس وقت لوگ اس تحریک کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے۔کچھ لوگوں نے تو اپنی جائیدادیں وقف کر دی تھیں مگر باقی لوگوں نے خاموشی اختیار کرلی اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی جائیداد میں وقف کی تھیں وہ بھی بار بار مجھے لکھتے تھے کہ آپ نے وقف کی تو تحریک کی ہے اور ہم اس میں شامل بھی ہو گئے ہیں لیکن آپ ہم سے مانگتے کچھ نہیں۔انہیں میں کہتا تھا کہ تم کچھ عرصہ انتظار کرو۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ وقت بھی آجائے گا۔جب تم سے جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو اس