خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 170 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 170

170 تعمیر ہوگی۔نیورمبرگ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔روم میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔نیپلز میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔تین مساجد سکنڈے نیویا میں بنیں گی۔تم کہو گے یہ بڑھا سٹھیا گیا ہے۔ابھی یورپ میں صرف تین مساجد بنی ہیں اور یہ آٹھ مساجد اور بنا رہا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ میں تقریر کرتا ہوا مساجد کی تعداد کم کر گیا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو میں پچاس مساجد یورپ میں بنواؤں گا۔تا کہ وہاں ہر بڑے شہر میں مسجد موجود ہو۔باوانا تک تو ایک دنیا دار ملاں کے پیچھے کھڑے ہو گئے تھے۔جس کی وجہ سے وہ اس کا ساتھ نہ دے سکے لیکن تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے لگے ہوئے ہو جس کو یورپ میں اسلام پھیلانے اور مساجد تعمیر کرنے کا شوق ہے بلکہ پچاس مساجد بھی کم سے کم اندازہ ہے۔میرا خیال تو اس سے بھی بلند جایا کرتا ہے۔پچاس مساجد پر ایک کروڑ روپیہ لگتا ہے جو اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں لیکن اگر تم اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کر کے انہیں احمدیت میں داخل کرو تو ایک کروڑ روپیہ کا مہیا ہونا کوئی مشکل امر نہیں۔مثلاً صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ پچھلے سال بارہ لاکھ تھا۔اس سال وہ پچاس ساٹھ لاکھ ہو جائے اور دو تین سال کے اندر اس کی مقدار تین کروڑ ہو جائے تو ایسی صورت میں اگر ہم 1/3 حصہ بھی مساجد کی تعمیر کے لئے رکھیں تو ایک کروڑ روپیہ ہر سال نکل سکتا ہے اور ہر سال پچاس مساجد تعمیر کی جاسکتی ہیں اور اگر ہم ہر سال پچاس مساجد تعمیر کرسکیں تو پانچ سال کے عرصہ میں اڑھائی سو مساجد بن سکتی ہیں۔اگر اڑھائی سو مساجد یورپ میں تعمیر ہو جائیں تو اس کے چپہ چپہ پر خدا تعالیٰ کی تکبیر کی صدا بلند ہو سکتی ہے۔ان مساجد سے مؤذن اللہ اکبر کی صدا بلند کریں گے اور ان کے ساتھ ساتھ قصبات والے بھی اللہ اکبر کہیں گے۔تو بیک وقت سارا یورپ اللہ اکبر کی آوازوں سے گونج اٹھے گا اور عیسائی اپنی زبان سے کہیں گے کہ اب عیسائیت کمزور ہوگئی ہے اور یہ بات تو میں نے پانچ مساجد کے متعلق بیان کی ہے لیکن جب یورپ میں اڑھائی سو مساجد تعمیر ہو جائیں گی تو یورپ کے سارے کناروں تک نعرہ ہائے تکبیر کی صدائیں بلند ہوں گی اور وہ نعرہ ہائے تکبیر ایسے ہوں گے کہ ایک مسجد کی آواز دوسری مسجد تک پہنچے گی اور پھر قریب کے علاقہ میں پھیلتی جائے گی اور یورپ والے کہیں گے کہ اب اسلام غالب آ گیا ہے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔ان کا سارا غرور جاتا رہے گا اور وہ خود اقرار کریں گے کہ اب اسلام غالب آچکا ہے۔تب وہ زمانہ آ جائے گا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود