خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 159 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 159

159 قادیان کی ساری جماعت مل کر پانچ چھ ہزار روپیہ مرکزی مسجد کے لئے خرچ نہ کر سکے میں جانتا ہوں کہ بعض بیرونی مخلصین اس بات کو نا پسند کریں گے کہ اس مسجد کی توسیع میں جسے اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصی قرار دیا اور اس کے انوار کی جلوہ گاہ ہے اور جو در حقیقت ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔حصہ لینے سے انہیں محروم کیا جائے لیکن اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی حصہ لینا چاہے تو لے ہم کسی کو حکم نہیں دیں گے کہ وہ ضرور اس میں حصہ لے۔۔۔یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی برکات جس وقت نازل ہونا شروع ہوتی ہیں تو وہ آثار سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر وہ جماعت جسے دشمن چاہتے تھے کہ کچل دیں۔ہر سال یا دوسرے تیسرے سال اپنی سابقہ عمارتوں کو اپنی وسعت کے مقابلہ میں تنگ محسوس کرنے لگے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نشان ہے لیکن یہ بھی اس کی سنت ہے کہ وہ کسی جماعت کو وسعت دینا چاہتا ہے لیکن وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو پھر ا سے تنگ کر دیتا ہے پس پیشتر اس کے کہ خدا تعالیٰ کہے۔جب یہ خود وسعت نہیں چاہتے تو انہیں کیوں وسعت دی جائے اور اس رنگ میں اس کی نگاہ ہم پر پڑے۔اس طرف توجہ کرو اور جس قدر جلد ہو سکے۔مسجد کو وسیع کر دو اور دعائیں کرتے رہو کہ خدا تعالیٰ اور بھی وسعت عطا فرمائے۔(الفضل 14 فروری 1932ء) حضور کی اس اپیل پر احباب قادیان نے لبیک کہا اور بعض بیرونی جماعتوں کے احمدی افراد نے بھی حصہ لیا اور ان کی کوششوں سے اتنا چندہ جمع ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مسجد اقصیٰ پہلے کی نسبت دوگنی ہوگئی۔کچھ مکانات خرید کئے گئے اور حضور کی تجویز کے مطابق انہیں مسجد میں شامل کر لیا گیا۔مسجد مبارک قادیان کی توسیع : حضرت مصلح موعودؓ نے دعوئی مصلح موعود کے بعد 9 مارچ 1944ء کو مسجد مبارک قادیان میں مجلس عرفان کے آغاز کا اعلان فرمایا۔وہاں ساتھ ہی مسجد مبارک کی توسیع کا بھی فیصلہ کیا۔چنانچہ فرمایا :۔اب اس کثرت سے لوگ یہاں نمازیں پڑھنے آرہے ہیں کہ کل سے میں بھی سوچ رہا ہوں اور بعض دوسرے دوست بھی کہ اب یہ مسجد اس قابل نہیں رہی کہ سب لوگ اس میں سما سکیں بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بڑھا دیا جائے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں پہلی برکت تو یہ نازل ہوئی ہے کہ آج ہی میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس مسجد کو پہلو کی طرف بڑھا دیا جائے۔اس سے انشاء اللہ یہ مسجد موجودہ