خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 141
141 1953ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: تحریک جدید کے کام کو وسیع کرنے کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا ذہن اس طرف پھیرا کہ تمہارے منہ سے جو عر صے بیان کروائے گئے تھے وہ محض کمزور لوگوں کو ہمت دلوانے کے لئے تھے۔ورنہ حقیقتاً جس کام کے لئے تو نے جماعت کو بلایا تھا۔وہ ایمان کا ایک جزو ہے اور ایمان کو کس حالت میں اور کسی وقت بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔نیز حضور نے فرمایا: ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تحریک جدید کو اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک کہ تمہارا سانس قائم ہے تا خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت صرف 19 سال تک محدود نہ رہے بلکہ وہ تمہاری ساری عمر تک چلتی چلی جائے اور جس کی ساری زندگی تک خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام جاتے ہیں اس کے مرنے کے بعد بھی وہ اس کے ساتھ جاتے ہیں“۔( صلح 11 دسمبر 1953ء ص 3،2) تحریک جدید کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا وہ کشف بھی پورا ہو گیا جس میں حضور کو غلبہ حق کے لئے پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک فوج دی گئی تھی۔فرماتے ہیں:۔کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة ـ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت مخفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھا یا جائے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 149) یہ کشف اس طرح پورا ہوا کہ تحریک جدید کے پہلے انیس سالہ دور ( 1934ء تا 1953 ء ) میں حصہ