خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 130
130 ہور ہے ہیں جو ہندو لٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کر سکتے ہیں۔اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصر الدین صاحب عبداللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں سر دست ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کر کے واپس بھیج دیتا ہوں۔پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیں توجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ دلائل کمزور ہیں یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا یا یہ کہ بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پر کاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دل شکنی ہو۔یا اس بات کو بھی مدنظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔لیکن ہمارے نو جوان بعض دفعہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں مضمون زیر بحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کر دیتے ہیں تو میں اس بات میں بھی ان کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کا ذکر نہ کریں جو براہ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالبا اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے۔(الفضل 8 فروری 1945 ء ) افسوس ! تقسیم ہند کی وجہ سے ستیارتھ پر کاش کے جواب کی یہ کوشش درمیان ہی میں رہ گئی۔ظلم کے سد باب کے لئے تبلیغ کی تحریک دوسری جنگ عظیم ابھی پورے زور شور سے جاری تھی کہ حضرت سید نالمصلح الموعود نے 29 ستمبر 1944 ء کو ایک خاص خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں بتایا کہ جنگ کے بعد دنیا پھر ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ہمیں اس غلطی کو واضح کرنے اور دین کو پھیلانے میں دیوانہ وار مصروف ہو جانا چاہئے۔حضور نے جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔