خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 131
131 بالکل ممکن ہے اگر فاتح مغربی اقوام جرمنی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جرمنی اور جاپان سے یہ تو میں ذلت نہ اُٹھا ئیں مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قومیں کھڑی کر دے جن کا مقابلہ ان کے لئے آسان نہ ہو۔پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔پھر خدا نخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ بھی اچھا پیدا نہیں ہوسکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں۔اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں گے جو ہماری باتوں پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کریں گے۔یعنی جرمنی اور جاپان۔یہ دو ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریب دو ہزار سالہ آزادی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جن کی مثال سوائے پرانے زمانے کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔اس وقت ان کے دل اسلام کے طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ آؤ ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہوا ہے۔پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔اس طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھدار طبقہ کو ( اور کوئی ملک ایسے سمجھدار طبقہ سے خالی نہیں ہوتا ) دین کی تعلیم کی برتری بتا سکیں گے۔مگر یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوں جب کثرت سے مبلغین ہمارے پاس موجود ہوں اور جب ان مبلغین کے لئے ہر قسم کے سامان ہمیں میسر ہوں۔الفضل 11 اکتوبر 1944 ء ص 7) مشہور زبانوں میں لٹریچر : حضور نے 20 اکتوبر 1944ء کو ترجمہ قرآن کریم کے ساتھ دوسرے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کی نہایت اہم سکیم رکھی اور اس غرض کے لئے 12 کتابوں کا سیٹ تجویز فرمایا جس کا دنیا کی آٹھ زبانوں