خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 123 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 123

123 اس مقصد کے مد نظر حضور نے 6 اکتوبر 1942 ء کے خطبہ جمعہ میں ہندوستان کے چپہ چپہ تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے تبلیغ کی نہایت اہم تحریک فرمائی جس کے دو حصے تھے۔اوّل:۔غیر احمدی علماء، امراء اور مشائخ کے نام خطبہ نمبر "الفضل اور سن رائز“ کے ہزار ہزار پرچے جاری کرائے جائیں۔دوم:۔ملک کے بااثر اور مقتدر طبقہ کو خطوط کے ذریعے بھی بار بار تبلیغ کی جائے۔تبلیغ کی اس نئی تحریک کی تفصیلات پر حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی۔سر دست ضرورت ہے کہ ایک حد تک اس طبقہ میں جو علماء اور روساء اور امراء یا پیروں اور گدی نشینوں کا طبقہ ہے اُس تک باقاعدہ سلسلہ کا لٹریچر بھیجا جائے "الفضل“ کا خطبہ نمبر یا انگریزی دان طبقہ تک سن رائز، جس میں میرے خطبہ کا انگریزی ترجمہ چھپتا ہے با قاعدہ پہنچایا جائے۔تمام ایسے لوگوں تک ان کو پہنچایا جائے جو عالم ہیں یا امراء روسا یا مشائخ میں سے ہیں اور جن کا دوسروں پر اثر و رسوخ ہے اور اس کثرت سے اُن کو بھیجیں کہ وہ تنگ آکر یا تو اس طرف توجہ کریں اور یا مخالفت کا بیڑہ اٹھائیں اور اس طرح تبلیغ کے اس طریق کی طرف آئیں جسے آخر ہم نے اختیار کرنا ہے۔لٹریچر اور الفضل“ کا خطبہ نمبر یا سن رائز بھیجنے کے علاہ ایسے لوگوں کو خطوط کے ذریعے بھی تبلیغ کی جائے اور بار بارا ایسے ذرائع اختیار کر کے اُن کو مجبور کر دیں کہ یاوہ صداقت کی طرف توجہ کریں اور تحقیق کرنے لگیں اور یا پھر مخالفت شروع کر دیں۔مثلاً ایک چٹھی بھیج دی۔پھر کچھ دنوں کے بعد اور بھیجی پھر کچھ انتظار کے بعد اور بھیج دی جس طرح کوئی شخص کسی حاکم کے پاس فریاد کرنے کے لئے اُسے چٹھی لکھتا ہے مگر جواب نہیں آتا تو اور لکھتا ہے پھر وہ توجہ نہیں کرتا تو ایک اور لکھتا ہے۔حتیٰ کہ وہ افسر توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس تکرار کے ساتھ علماء اور امراء ورؤساء ،مشائخ نیز راجوں مہاراجوں نوابوں اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو بھی چٹھیاں لکھی جائیں۔اگر کوئی شکر یہ ادا کرے تو اس بات پر خوش نہ ہو جائیں اور پھر لکھیں کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔جواب نہ آئے تو پھر چند روز کے بعد اور لکھیں کہ اس طرح آپ کو خط بھیجا گیا تھا مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔پھر کچھ دنوں تک انتظار کے بعد اور لکھیں حتی کہ یا تو وہ بالکل ایسا ڈھیٹ ہو کہ اُس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے اس کی سیکرٹری کا جواب آئے کہ تم لوگوں کو کچھ تہذیب نہیں بار بار دق کرتے ہو۔راجہ صاحب یا پیر صاحب نے خط پڑھ لیا اور وہ جواب دینا نہیں چاہتے اور یا پھر اس کی