خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 90
90 نے وقف چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا“۔وقف زندگی اور حضرت مصلح موعود کا ایک عہد : (سوانح فضل عمر جلد 3 ص 329 ) حضور نے 1939ء میں ایک عہد بھی کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک پر جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں یاد داشت وغیرہ لکھنے کے لئے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے۔" آج چودہ تاریخ کو ( مئی 1939ء) میں مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی نسل سیدہ سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا میں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا۔یہ عہد سر دست ایک سال کے لئے ہوگا“۔الفضل 25 مارچ 1966 ء ) وقف زندگی کی وسیع تحریک حضرت مصلح موعودؓ کی دور بین نگاہ نے قبل از وقت دیکھ لیا تھا کہ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر ہمیں فوری طور پر تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دینا پڑے گی۔اس لئے حضور نے 24 مارچ 1944ء کو وقف زندگی کی پر زور تحریک کی اور فرمایا: ”میرا اندازہ ہے کہ فی الحال اور دوسو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کاموں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جا سکتا ہے لیکن اس وقت واقفین کی تعداد 35,30 ہے۔اس کے علاوہ گر یجو یٹوں اور ایم اے پاس نو جوانوں کی بھی کالج کے لئے ضرورت ہے تاپر و فیسر وغیرہ تیار کئے جاسکیں۔ایسے ہی واقفین میں سے آئندہ ناظروں کے قائم مقام بھی تیار کئے جاسکیں گے۔آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ناظروں کا قائم مقام بنایا جاسکے۔میری تجویز ہے کہ واقفین نو جوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی جائے کہ وہ آئندہ موجودہ ناظروں کے قائم مقام بھی ہو سکیں پس ایم اے پاس نو جوانوں کی ہمیں ضرورت ہے۔(افضل 31 مارچ 1944ء)