تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 65

تحریک وقف نو — Page 43

77 بسم الله الرحمن الرحیم خطبه جمعه فرمودہ سید نا حضرت خلیفہ ا صبیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخه ۸ ستمبر ۱۹۸۹ بمقام بیت الفضل لندن تشہیر ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گزشتہ چند سالوں سے میں جہاں جماعت احمدیہ کو دعوت الی اللہ کی طرف مسلسل توجہ دلا رہا ہوں وہاں ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیتا چلا آرہا ہوں کہ اپنے کردار کو عظیم بنانے کی کوشش کریں کیونکہ قرآن کریم سے بار ہا متعدد جگہ یہ واضح ہدایت ملتی ہے کہ جب تک کردار میں عظمت نہ ہو نہ بات میں عظمت پیدا ہو سکتی ہے نہ دعا میں عظمت پیدا ہو سکتی ہے۔ایک جگہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ تمہاری دعا آسمان کی طرف رفعت اختیار نہیں کر سکتی آسمان کی طرف بلند نہیں ہو سکتی جب تک تمہارا کردار اسے بلند نہ کر رہا ہو۔اس میں قبولیت دعا کا بہت گہرا راز ہے اور دوسری جگہ ایک موقع پر فرمایا کہ قول حسن بہت اچھی چیز ہے اسکے بغیر دعوت الی اللہ ممکن نہیں۔مگر شرط یہ ہے کہ ساتھ عمل اچھے ہوں تو در حقیقت یہ دونوں مضمون ایک ہی مرکزی فلسفے سے تعلق رکھتے ہیں یعنی دعا میں بھی کہ خدا بھی بات اس وقت سنتا ہے جب اسکے پیچھے عظمت کردار موجود ہو اور اس کے بغیر دعا میں طاقت پیدا نہیں ہوتی تو بندے کیسے تمہاری بات سن لیں گے۔جو خدا کی نسبت کم رؤف اور رحیم ہیں کم توجہ کرنے والے ہیں خدا کی نسبت بہت ہی کم یعنی کوئی نسبت ہی نہیں در حقیقت تمہاری غلطیوں سے در گزر کرنے والے ہیں۔اللہ تو بعض کمزوروں کی دعا بھی سن لیتا ہے۔بعض دفعہ