تحریک وقف نو — Page 21
33 32 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ فرموده سید نا حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخه - در تبلیغ به المطابق ار ضروری شده اید بمقام بيت الفضل لندن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : آئندہ صدی کی کمزور حالت میں تھا اور افریقہ کے ممالک اور ایسے دیگر ممالک جہاں اردو زبان نہیں سمجھی جاتی ہے اور بعض علاقوں میں انگریزی بھی نہیں سمجھی جاتی وہاں ترجمہ کر کے کیسٹیں پھیلانے کا عملاً کوئی ھے انتظام نہیں تھا۔اس وجہ سے وہ جو براہ راست پیغام کا اثر ہو سکتا ہے اس سے بہت سے احمدی علاقے محروم رہ گئے۔بعد ازاں موثر رنگ میں اس تحریک کو پہنچانا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی مگر بعض جگہ اس ذمہ داری کو ادا کیا گیا اور بعض جگہ یا تو ادا نہیں گیا یا تیم دلی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے صرف پیغام پہنچانا کافی نہیں ہوا کرتا۔کسی جذبے کیساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے، کسی محنت اور کوشش اور خلوص کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے یہ پیغام کے قبول کرنے کیساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔دنیا میں مختلف وقف تو کی تاریخی تحریک کے عرصہ میں مزید دو سال کا اضافہ سکھر آئے۔پیغمبر واقفین نوسے متعلق بہت ہی اہم تیاری کی ضرورت تیاری کے سلسلہ میں بنیادی طور پر ان کا ایک ہی پیغام تھا یعنی خدا کا پیغام بندوں کے نام لیکن میں شان کے ساتھ ایک بہت ہی اہم تیاری کا تعلق واقفین تو سے ہے۔میں نے وقف تو کی جو تحریک کی تھی اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بارہ سو سے زائد ایسے بچوں کے متعلق اطلاع مل چکی ہے جو وقف تو کی نیت کے ساتھ دعائیں مانگتے ہوئے خدا سے مانگے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انکی خیر و عافیت کے ساتھ ولادت کا سامان فرمایا۔یہ چھوٹے چھوٹے بیٹے آئند ھندی کے واققین تو کہلاتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خطوط مسلسل ملتے چلے جارہے ہیں۔اس سلسلہ میں دو طرح کی تیاریاں میرے پیش نظر ہیں ، مگر اس سے پہلے کہ میں اُس تیاری کا ذکر کروں میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وقف تو کیلئے جتنی تعداد کی توقع تھی اتنی تعداد ہلکہ اُسکا ایک حصہ بھی ابھی پورا نہیں ہو سکا۔اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اسمیں پیغام پہنچانے والوں کا قصور ہے۔بہت سے ایسے ممالک میں جہاں عامتہ الناس تک یہ پیغام پہنچایا ہی نہیں گیا اور جن دنوں میں یہ تحریک کی گئی تھی ان دنوں کیسٹ کا نظام آج کی نسبت بہت وہ پیغام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہنچایا اس شان سے کوئی اور پہنچا نہیں سکا اور جس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ آپ کا پیغام قبول کیا گیا تاریخ انبیاء میں اس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ کسی اور نبی کا پیغام قبول نہیں کیا گیا۔اس لیے پیغام پہنچانا کافی نہیں۔کسی رنگ میں اور کس جذبے کے ساتھ کس خلوص کیسا تھ ، کس درجہ ثبت اور پیار کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے پیغام پہنچایا جاتا ہے ، یہ وہ چیزیں ہیں جو پیغام کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔اس لیے میری خواہش یہ تھی کہ کم سے کم پانچ ہزار بچے اگلی صدی کے واقفین ٹو کے طور پر ہم خدا کے حضور پیش کریں۔اس تعداد کو پورا کرنے میں ابھی کا فی سفر باقی ہے۔بعض دوست یہ لکھ رہے ہیں کہ جہاں تک ان کا تاثر تھا یا میں نے شروع میں خطے میں بات کی تھی اس کا واقعہ یہی نتیجہ نکلتا ہوگا کہ جو اس صدی سے پہلے پہلے بیچے پیدا ہو جائیں گے وہ وقت تو میں لیے جائیں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔لیکن