تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 65

تحریک وقف نو — Page 22

35 34 حسین طرح بعض دوستوں کے خطوط سے پتہ چل رہا ہے وہ خواہش رکھتے ہیں لیکن یہ سمجھ کر کہ اب وقت نہیں رہا وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے ان کیلئے اور مزید تمام دنیا کی جماعتوں کیلئے جن تک ابھی یہ پیغام ہی نہیں پہنچا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وقف تو میں شمولیت کیلئے مزید دو سال کا عرصہ بڑھایا جاتا ہے اور فی الحال یہ عرصہ دو سال کیلئے بڑھایا جارہا ہے تا کہ خواہشمند دوست اس پہلی تحریک میں شامل ہو جائیں ورنہ یہ تحریک تو بار بار ہوتی ہی رہے گی لیکن خصوصا وہ تاریخی تحریک جس میں اگلی صدی کیلئے واقفین بچوں کی پہلی فوج تیار ہو رہی ہے اس کا عرصہ آئندہ دو سال تک بڑھایا جارہا ہے۔اس عرصے میں جماعتیں کوشش کر لیں اور جس حد تک بھی ممکن ہو، یہ فوج پانچ ہزاری تو ضرور ہو جائے اس سے بڑھ جائے تو بہت ہی اچھا ہے۔مقداری بہت سے والدین بھے واقفین کے والدین پر عائد ہونیوالی ذمہ داری لکھ رہے ہیں کہ انھ بچوں کے متعلق ہمیں کرتا کیا ہے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس کے دو حصے ہیرے۔اول یہ کہ جماعت کی انتظامیہ نے کیا کرتا ہے۔اور دوسرا یہ کہ بچوں کے والدین نے کیا کرتا ہے ؟ جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے اس کے متعلق وقتاً فوقتاً میں ہدایات دیتارہا ہوں اور جو جو نئے خیال میرے دل میں آئیں یا بعض دوست مشورے کے طور پر لکھیں ان کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے آج میں اس ذمہ داری سے متعلق کچھ باتیں کوئی چاہتا ہوں۔خدا کے حضور بچے کو پیش کرتا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اور آپ یاد رکھیں کہ وہ لوگ جو خلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیار کی نسبت سے ان قربانیوں کو سجا کر پیش کیا کرتے ہیں۔قربانیاں اور تھے دراصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔آپ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں، عام چیز جو گھر کیلئے لیتے ہیں اسے باقاعدہ خوبصورت کاغذوں میں لپیٹ کر اور نیتوں سے باندھ کر سجا کر آپ کو پیش نہیں کیا جاتا۔لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے تحفہ لیتا ہے تو پھر دکاندار بڑے اہتمام سے اسکو سجا کر پیش کرتا ہے۔پس قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض لوگ تو مینڈھوں اور بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو ان کو زیور پہنا کر پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاو میں کرتے ہیں۔انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہوتی ہیں۔انسانی زندگی کی سجاوٹ تقوی سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اسکی محبت کے نتیجہ میں انسانی روح بن ٹھن کر تیار ہوا کر تی ہے پیس پیشتر اس کے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کیے جائیں ان ماں باپ کی بہت وختہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ اُن کے دل کی حسرتیں پوری ہوں جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنا رکھتے ہیں وہ تمنائیں پوری ہوں۔مختلف ادوار میں پیش کئے جانیوالے واقعین اور ائی اقدام اس سے پہلے مختلف ادوار میں جو واقعین جماعت کے سامنے پیش کئے جاتے رہے انکی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ کئی قسم کے واقفین ہیں۔کچھ تو وہ تھے جنہوں نے بڑی عمروں میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو خود پیش کیا کہ خوش قسمتی کے ساتھ ان کی اپنی تربیت بہت اچھی ہوئی تھی اور وقف نہ بھی کرتے تب بھی وہ وقف کی روح رکھنے والے لوگ تھے۔وہ صحابہ کی اولاد یا اول تابعین کی اولاد تھے ، انہوں نے اچھے ماحول میں اچھی پرورش پائی اور وہ خدا تعالے