تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 65

تحریک وقف نو — Page 9

9 8 مجھ سے ہو نہیں سکتا۔پس اللہ کی شان دیکھیں کہ میں فرما رہا ہے مجھے چاہو میرے چاہنے والوں کو بھی چاہو اور اگر میرے چاہنے والوں کو نہیں چاہو گے تو تم فاسق ہو تمہاری محبت مردود ہے یہ ہے اصل حکیمانہ کلام۔حقیقت میں محبت کی اعلیٰ نشانی اور اس کی سچائی کی دلیل یہ ہے کہ جس سے آقا پیار کرے اس سے بھی پیار ہو جائے اور جو اپنے محبوب سے پیار کرتا ہو اس سے بھی محبت بڑھے نہ کہ اس سے دشمنی بڑھے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اور جگہ بھی کھول کر بیان فرمایا۔ایک دعا سکھائی کہ اے خدا ! ہمارے دلوں میں مومنوں کے لئے علی نہ پیدا کر جو ہم سے ایمان میں سبقت لے گئے پہلے آگئے ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ کسی بناء پر کسی غلط فہمی کی وجہ سے بھی ان کے لئے ہمارے دل میں کوئی ٹیڑھا پن نہ پیدا کر۔اس آیت میں شیعہ غلط فلسفے کا جواب ہے ہمیشہ کے لئے ان میں سے بعض ہمیں آج ایسی باتیں بتاتے ہیں جن کے نتیجہ میں ایمان میں سبقت لے جانے والوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اور قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ وہ لوگ جو سبقت لے گئے اول دور کے ایمان لانے والے تھے اے خدا ! ہمیں ان سے نفرت نہ ہونے دینا۔غلط فہمی سے تاریخ کے غلط سمجھنے کے نتیجہ میں یا غلط روایات کے پہنچنے کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے ہمارے دل میں کبھی پیدا ہو جائے ان کے لئے سختی پیدا ہو جائے تو دعا سکھائی کہ اے اللہ ! ان کے لئے ہمارے دل کو نرم رکھتا۔وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ خدا کو چاہنے والے تھے۔اور وہی مضمون ہے کہ مجھے چاہتے ہو تو میرے چاہنے والوں کو بھی چاہو اس کے بغیر وحدت نہیں پیدا ہو سکتی ہے۔یہ ہے اس کا فلسفہ۔اگر خدا سے عشق کے نتیجہ میں رقابت پیدا ہوتی اور رقابت کی اجازت ہوتی تو جتنے خدا سے محبت کرنے والے تھے اتنی ہی تعداد میں خدا کی خدائی کے تصور بٹ جاتے۔امت واحدہ کے پیدا ہونے کا سوال ہی باقی نہ رہتا۔ہر خدا سے محبت کرنے والا دوسرے خدا سے محبت کرنے والے سے جل رہا ہو تا ، حسد کر رہا ہوتا ، نفرت کر رہا ہوتا کہ وہ کون ہوتا ہے اس خدا سے محبت کرنے والا جس سے میں کر رہا ہوں۔محبت رسول ﷺ کی اعلیٰ حسین اور کامل تعلیم : یہ جہالت کا عشق تو صرف دنیا کے لئے خدا نے رہنے دیا اپنے لئے وہ عشق چنا جو وحدت کالمہ پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اس وحدت کا دائرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے یہ وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے محبت کی تعلیم اس رنگ میں خدا تعالٰی نے دی اور جس وسعت کے ساتھ اور جس حکمت باہمی رابطے کے ساتھ قرآن کریم میں محبت کی تعلیم ہے آپ جائزہ لے کر دیکھ لیں دنیا کے کسی اور مذہب میں آپ کو اس جیسی اتنی حسین اتنی کامل اتنی مربوط تعلیم دکھائی نہیں دے گی۔آنحضرت ﷺ سے محبت پہلی بات یہ کہ کسی حکم یا جبر کی وجہ سے نہیں، اس لئے ہے کہ وہ محبت کے لائق وجود ہیں۔اور خدا تعالٰی نے نشاندہی فرما دی اور گواہی دے دی کہ اس سے بڑھ کر تمہیں اور کیا دلیں چاہئے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔اگر انسان زیادہ حسین ہو تو کم تر حسن سے محبت کرنے کے کم امکانات ہوتے ہیں جتنا زیادہ کوئی حسین ہو اتنا اس کا معیار حسن پڑھتا چلا جاتا ہے۔ہیں آنحضرت ﷺ کے حسن کی سب سے بڑی دلیل اس آیت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ اتنا حسین ہے کہ میں اس سے محبت کر رہا ہوں اور اتنی محبت کرتا ہوں کہ اگر اس کی پیروی کرو گے ، تم اس سے محبت کرو گے تو میں تم سے بھی محبت کرنے لگ جاؤں گا۔آنحضرت اللہ کے محاسن کا بکثرت ذکر ہونا چاہئے: پس آنحضرت ا میں ذاتی حسن موجود ہے اور یہ حسن جو ہے اس کا بیان ہوتا چاہئے اس کا تذکرہ چلنا چاہئے۔اس کی مجالس ہونی چاہئیں۔بڑیوں اور چھوٹوں کو اس سے زاتی واقفیت ہونی چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔