تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 65

تحریک وقف نو — Page 39

69 68 ہے اور ترش روئی سے لوگوں سے سلوک کرتا ہے۔جب میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اپنے یہ جواب دیا کہ سب جھوٹ بولتے ہیں میں تو بالکل درست اور صحیح چل رہا ہوں اور انکی خرابیاں ہیں جب توجہ دلاتا ہوں تو پھر آگے سے غصہ کرتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ خرابیوں کی طرف تو سب سے زیادہ توجہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دلائی تھی اور جتنی دوری اس دنیا کے لوگوں کی آپ سے تھی اسکے ہزارواں حصہ بھی جماعت احمدیہ کے نوجوان آپ سے فاصلے پر نہیں کھڑے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کامل طور پر معصوم تھے اور آپ خود اپنے اندر کچھ خرابیاں رکھتے ہیں۔جن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب تھے وہ تمام برائیوں کی آماجگاہ تھے مگر یہ نوجوان تو کئی پسندوں سے سمجھے ہوئے، مجھے ہوئے اور باہر کی دنیا کے جوانوں سے سینکڑوں گنا بہتر ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ جب نصیحت کریں تو وہ بدکتے ہیں اور متنفر ہوتے ہیں اور آنحضرت جب نصیحت فرماتے تھے وہ آپ کے عاشق ہو جایا کرتے تھے۔دوسرے میں نے ان سے کہا کہ ایک آدھ شکایت تو ہر مبلغ کے متعلق ہر ایسے شخص کے متعلق آہی جاتی ہے جو کسی کام پر مامور ہو ہر شخص کو وہ راضی نہیں کر سکتا کچھ لوگ ضرور ناراض ہو جایا کرتے ہیں لیکن ایک شخص کے متعلق شکائیتوں کا تانتا لگ جائے تو اس پر غالب کا یہ شعر اطلاق پاتا ہے۔سختی کسی کلام میں لیکن نہ کی جس سے بات اپنے شکایہ اسقدر ضرور کی پس اپنے بچوں کو خوش اخلاق ان معنوں میں بنائیں کہ بیٹھے بول بول سکتے ہوں۔لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہوں۔غیروں اور دشمنوں کے دلوں میں راہ پاسکتے ہوں۔اعلیٰ سوسائیٹی میں سرایت کر سکتے ہوں کیونکہ اسکے بغیر نہ تربیت ہو سکتی ہے نہ تبلیغ ممکن ہے۔بعض مباغوں کو اللہ تعالی نے یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے اسلیئے اپنے ملک کے بڑے سے بڑے لوگوں سے جب وہ ملتے ہیں تو تھوڑی سی ملاقات میں وہ انکے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔اور اسکے نتیجے میں خدا تعالی کے فضل سے تبلیغ کی عظیم الشان راہیں کھل جاتی ہیں۔جہاں تک بچیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی بارہا ماں باپ سوال کرتے ہیں کہ ہم انہیں کیا بنائیں؟ وہ تمام باتیں جو مردوں کے متعلق یا لڑکوں کے متعلق میں نے بیان کی ہیں۔وہ ان پر بھی اطلاق پاتی ہیں۔لیکن اسکے علاوہ انہیں گھر گرہستی کی اعلیٰ تعلیم دینی بہت ضروری ہے اور گھریلو اقتصادیات سکھانا ضروری ہے کیونکہ بعید نہیں کہ وہ وا تعین، بچیاں وا تعین کے ساتھ ہیں بیائی جائیں۔جب میں کہتا ہوں کہ بعید نہیں تو مراد یہ ہے کہ آپکی دلی خواہش یہی ہونی چاہئے کہ واقفین بچیاں واقفین سے بیاہی جائیں ورنہ غیر دا کے ساتھ انکی زندگی مشکل گزرے گی اور مزاج میں بعض دفعہ ایسی دوری و سکتی ہے۔ایک واقف زندگی بچی کا اپنے غیر واقف خاوند کے ساتھ مذہب میں اسکی کم دلچسپی کی وجہ سے گزارا نہ ہو اور واقفین کے ساتھ شادی کے نتیجے میں بعض دوسرے مسائل اسکو در پیش ہو سکتے ہیں۔اگر وہ امیر گھرانے کی بچی ہے۔اسکی پرورش ناز و نعم میں ہے اور اعلیٰ معیار کی زندگی گزار رہی ہے تو جب تک شروع ہی سے اسے اس بات کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہ کیا جائے کہ وہ سادہ سخت زندگی اور مشقت کی زندگی برداشت کر سکے اور یہ سلیقہ نہ سکھایا جائے کہ تھوڑے پر بھی انسان راضی ہو سکتا ہے اور تھوڑے پر بھی سلیقے کے ساتھ انسان زندہ رہ سکتا ہے۔پس ایسی لڑکیاں جن کو بچپن سے مطالبوں کی عادت ہوتی ہے وہ جب را تضمین زندگی کے گھروں میں جاتی ہیں تو انکے لیے بھی جنم پیدا