تحریک وقف نو — Page 24
39 38 جو صفات جماعت میں نظر آنی چاہئیں وہی صفات واقفین میں بھی نظر آتی چاہئیں بلکہ اُن میں وہ بدرجہ اولی نظر آنی چاہئیں۔ان صفات حسنہ یا اخلاق سے متعلق میں مختلف خطبات میں آپ کے سامنے مختلف پروگرام رکھتا رہا ہوں۔ان سب کو ان بچوں کی تربیت میں خصوصیت سے پیش نظر رکھیں۔خلاصہ ہر واقف زندگی بچہ جو وقت تو میں شامل ہے بچپن سے ہی اسکو سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہیے اور یہ نفرت اس کو گویا ماں کے دودھ میں ملنی چاہیے جس طرح RADIATION کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے اس طرح پرورش کرنے والی باپ کی بانہوں میں سچائی اس بچہ کے دل میں ڈوبتی چاہیے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہوتا پڑے گا۔ضروری نہیں ہے کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اُس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لیے ضروری ہے اس لیے اب ان بچوں کی خاطر ان کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر وقف کے ساتھ پہلو بہ پہلو نہیں مل سکتی۔ترش رو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں ھے مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطر ناک کتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔اس لیے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ متحمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا یہ دونوں صفات و انفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔مذاق یعنی مزاح اچھی چیز ہے لیکن مزاح کے اندر پاکیزگی ہو تھے چاہیے اور مزاح کی پاکیزگی کئی طرح سے ہو سکتی ہے لیکن میرے ذہن میں اس وقت خاص طور پر دو یا تیں ہیں۔ایک تو یہ کہ گندے لطائف کے ذریعہ اپنے یا غیروں کے دل بہلانے کی عادت نہیں ہونی چاہئیے۔اور دوسرے یہ کہ اس میں لطاقت ہو۔مذاق اور مزاح کے لیے ہم لطاقت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں لینی اسکو لطیفہ کہتے ہیں۔لطیفہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ بہت ہی نفیس چیز ہے۔ہر قسم کی کرختگی اور بھونڈا پن لطافت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ کثافت سے تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ ہندوستان کی اعلیٰ تہذیب میں جب بھی ایسے خاندانوں میں جہاں اچھی روایات ہیں کوئی بچہ ایسا عظیفہ بیان کرتا تھا جو بھونڈا ہو تو اسے کہا جاتا تھا کہ یہ نطقہ نہیں ہے یہ کثیفہ ہے یہ تو بھانڈیں ہے۔تو بھانڈین اور اچھے متراح میں بڑا فرقے میں گفتگو کا انداز اپنانا ہوگا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر یا مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے کیونکہ یہ خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے۔اسلئے جو مزاح ہمیں آنحضرت صلی الہ علیہ و آلہ وہم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں کہیں کہیں نظر آتا ہے۔کیونکہ اکثر اور اسے ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو بہر حال آپ نے پورا کرتا ہے۔اس لیے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف سترے اور پاکیزہ ہو جاتے سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہیے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہئیے۔عقل اور ره مزاج کے واقعات اب محفوظ نہیں ہیں۔اسمیں پاکیزگی پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں بھی مزاح نظر آتا ہے اور حضرت خلیفتہ المسیح چاہئیں۔قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا، اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طبیعت میں بھی بڑا مزاج تھا لیکن اس مزاح کے ساتھ دونوں قسم کی پاکیزگی تھی۔لیکن بعض ایسے دوستوں کو بھی میں نے دیکھا ہے جنہوں نے مزاج سے نہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے تربیت کریں تو ایسا ہوتا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔عرض یہ رخصت تو حاصل کر لی کہ مزاح میں کبھی وقت گزار لیتا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن وہ مفرق نہیں کر سکے کہ مزاح کے ساتھ پاکیزگی ضروری ہے۔چنانچہ وہ بعض نہایت گندے اور بھونڈے دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک ان بچوں کو پہنچانا ضروری ہے۔علاوہ ازیں بچپن سے ایسے بچوں کے مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہیے۔ترش روئی لطیفے بھی اپنی جلسوں میں بیان کرتے رہے ، اور بعض لوگوں نے اس سے سمجھ لیا کہ کوئی سمجھ