تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 65

تحریک وقف نو — Page 23

37 36 کے فضل کے ساتھ اچھی عادات سے بچے ہوئے لوگ تھے۔واقفین کا یہ گروہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے زندگی کے ہر شعبہ میں نہایت کامیاب رہا۔پھر ایک ایساد در آیا جب بچے وقف کرنے شروع کئے گئے یعنی والدین نے اپنی اولاد کو خود وقف کرنا چاہا۔اس دور میں مختلف قسم کے واقفین ہمارے سامنے آئے ہیں۔بہت سے وہ ہیں جن کے متعلق والدین سمجھتے ہیں کہ جب ہم ان کو جماعت کے سپرد کریں گئے تو وہ خود ہی انکی تربیت کریں گے اور اس عرصہ میں انہوں نے ان پر نظر نہیں رکھی پس جب وہ جامعہ احمدیہ میں پیش ہوتے ہیں تو بالکل ایسے RAW MATERIAL۔RAW MATERIAL یعنی ایسے خامال بنانے کا خیال آجاتا ہے۔حالانکہ تھانیداری سے تو ایسے بچوں کا تعلق ہو سکتا ہے وقف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔یہ لوگ بہت بعید کی بات سوچتے ہیں۔تھانیداری والا تو لطیفہ سے لیکن یہ تو دردناک واقعہ ہے۔وہ تو ایک ہفتے والی کہاوت کے طور پر مشہور ہے لیکن یہ تو زندگی کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کرنے کیلئے آپ کو لبس گندہ بچہ ہی نظر آیا ہے ، ناکارہ محض بچہ نظر آیا ہے جو ایسی گندی عادتیں لیکر نکلا ہے کہ آپ اس کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔لیے بچوں تازہ والدین واتین پر گری نظر میں اس سے ہوں کی یہ جوان کیپ آنے والی ہے اس میں ہمارے کے طور پر پیش ہوتے ہیں جس کے اندر مختلف قسم کی بعض ملاوٹیں بھی شامل ہو چکی ہوتی ہیں پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے اور اگر اب ہم انکی پرورش اور تربیت سے ان کو صاف کرنا ایک کار وارد ہوا کرتا ہے اُن کو وقف کی روح کے مطابق ڈھالنا بعض دفعہ مشکل بلکہ محال ہو جایا کرتا ہے۔اور بعض یہ عادتیں وہ ساتھ لیکر آتے ہیں جاعت تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی لیکی غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔اور پھر ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتفاقاً یہ مر واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔کسی کو جھوٹ کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔اب یہ باتیں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق تصو بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اچھے نیک صالح احمدی میں پائی جائیں کجا یہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں۔لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کر دیا لیکن تربیت کی طرف توبہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد ان کو وقف کا خیال آیا کہ اس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔بعض والدین سے تو یہ بھی پتہ چلا کہ انہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں بہت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا ، وقف کر دو تو خود ہی جماعت سنبھائے گی اور ٹھیک کرے گی۔جس طرح پرانے زمانے میں بعض واقعہ بگڑے ہوئے بچوں کے متعلق کہتے تھے اچھا ان کو تھا تب دار بنوا دیں گے۔تو جماعت میں چونکہ نیکی کی روح ہے اس لیے ان کو تھانیداری کا تو خیال نہیں آتا لیکن واقعی زندگی واقعات ہو گئے ہیں۔اسلئے والدین کو چاہیے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گری نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بیان کروں گا لبعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیتے اور اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہئیے کہ میں نے تو اپنی صاف نیست سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں اگر ان کے باوجود جماعت اس کو لیتے کیلئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں اور نہ اس وقت کو منسوخ کر دیا جائے۔پس اس طریق پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اب ہمیں آئندہ ان واقفین نو کی تربیت کرنی ہے۔بچوں میں اخلاق حسنہ کی آبیاری کی اہمیت یہاں تک اخلاق حسنہ کا تعلق ہے اس سلسلہ میں