تحریک وقف نو — Page 16
23 22 کرتے رہے دن رات کہ اے خدا ! مجھے اولاد دے اور وہ دے جو تیری غلام ہو جائے میری طرف سے ایک تحفہ ہو تیرے حضور اگلی صدی کے استقبال کے متعلق ایک نہایت مبارکبا تحریک: پس میں نے یہ سوچا کہ ساری جماعت کو میں اس بات پر آمادہ کروں کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے جہاں ہم روحانی اولاد بتانے کی کوشش کر رہے ہیں دعوت الی اللہ کے ذریعہ وہاں اپنے آئندہ ہونے والے بچوں کو خدا کی راہ میں ابھی سے وقف کردیں اور یہ دعا مانگیں کہ اے خدا ! ہمیں ایک بیٹا دے لیکن اگر تیرے نزدیک بیٹی بھی ہونا مقدر ہے تو ہماری بیٹی ہی تیرے حضور پیش ہے۔ماضی بطنی جو کچھ بھی میرے بطن میں ہے یہ ائیں دعائیں کریں اور والد بھی ابراہیمی دعائیں کریں کہ اے خدا اہمارے بچوں کو اپنے لئے چن لے ان کو اپنے لئے خاص کرلے تیرے ہو کر رہ جائیں۔اور آئندہ صدی میں ایک عظیم الشان را تعین بچوں کی فوج ساری دنیا سے اس طرح داخل ہو رہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہو رہی ہو اور محمد رسول اللہ ان کے خدا کی غلام بن کے اس صدی میں داخل ہو رہی ہو چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہوں۔اور اس وقف کی شدید ضرورت ہے آئندہ سو سالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلتا ہے وہاں لاکھوں تربیت یافتہ غلام چاہئیں۔جو محمد رسول اللہ کے خدا کے غلام ہوں واقفین زندگی چاہئیں کثرت کے ساتھ اور ہر طبقہ زندگی سے واقفین زندگی چاہئیں۔ہر ملک سے را تعین زندگی چاہئیں۔اس سے پہلے بھی ہم تحریک کرتے رہے ہیں بہت کوشش کرتے رہے لیکن بالعوم بعض خاص طبقوں نے عملاً اپنے آپ کو وقف زندگی سے مستنی سمجھا ہے عملا جو واقعین سلسلہ کو ملتے رہے ہیں وہ زندگی کے ہر طبقے سے نہیں آئے بعض بہت صاحب حیثیت لوگوں نے بھی اپنے بچے پیش کئے لیکن بالعموم دنیا کی نظر میں جس طبقے کو بہت زیادہ عزت سے نہیں دیکھا جاتا درمیانے درجہ کا جو طبقہ ہے غریبانہ اس میں سے بچے پیش ہوتے رہے ہیں اس طبقہ سے واقفین زندگی کا آنا ان را تضمین زندگی کی عزت بیٹھانے کا موجب ہے عزت گرانے کا موجب نہیں۔لیکن دوسرے طبقوں سے نہ آنا ان طبقوں کی عزت گرانے کا ضرور موجب ہے۔پس میں اس پہلو سے مضمون بیان کر رہا ہوں کہ کسی کو ہرگز کوئی یہ غلط فہمی سے نہ مجھے کہ نعوذ باللہ من ذالک جماعت محروم رہ جائے گی اور جماعت کی عزت میں کمی آئے گی اگر ظاہری عزت والے لوگ اپنے بچے وقف نہ کریں۔یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی عزتیں باقی نہیں رہیں گی جو بظاہر دنیا میں معزز ہیں خدا کے نزدیک وہ اپنے آپ کو آئندہ ذلیل کرتے چلے جائیں گے اگر انہوں نے خدا کے حضور اپنے بچے پیش کرنے کا گر نہ سیکھا اور یقین نہ کر لیا انبیاء کے بچوں سے زیادہ اور کوئی دنیا میں معزز نہیں ہو سکتے انھوں نے اس عاجزی سے وقف کئے ہیں اس طرح گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے اور روتے ہوئے وقف کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ان کو دیکھ کر۔جماعت کے ہر طبقہ سے لکھو کھا واقفین آنے چاہئیں: اگلی صدی میں واقفین زندگی کی شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقہ سے لکھو کہنا کی تعداد میں واقفین زندگی اس صدی کے ساتھ ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن استعمال تو اس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے بہر حال۔تو یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں اس لئے جن کو بھی توفیق ہے وہ اس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ہو سکتا ہے اس نیت سے اس نذر کی برکت سے بعض ایسے خاندان جن میں اولاد نہیں پیدا ہو رہی اور ایسے میاں بیوی جو کسی وجہ سے اولاد سے محروم ہیں اللہ تعالی اس