تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 65

تحریک وقف نو — Page 15

21 20 نہ ہوتا تو آنحضرت ا در پردہ عشق کے راز نہ بتاتے کسی کو۔یہ بھی ایک عجیب حسین پہلو ہے جو میری نظر میں ابھرا اور بے ساختہ دل اور بھی زیادہ فریفتہ ہو گیا۔بعض جگہ حکما خدا تعالیٰ نے اپنے راز و نیاز کی باتیں بنی نوع انسان کو بتانے پر پابند فرما دیا آنحضرت ان کو ورنہ وہ بتاتے تو لوگوں کو پتہ چلتا کہ اتنا حسین ہے اس شان کا نبی جو اس قدر منکسر المزاج ہو اس کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حسن پر پر دے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو چھپاتا نہیں یہی بنیادی فرق ہے مادہ پرست اور خدا پرست میں۔مادہ پرست اپنی کمزوریوں پر پردے ڈالتا چلا جاتا ہے اور اپنے معمولی سے حسن کو بھی اچھالتا ہے اور دکھاتا اور اس کی نشو نما کرتا ہے اور پلیٹی اس کی زندگی کے ہر شعبے کا ایک جزو لا ینفک بن جاتی ہے۔وقف کامل اور اس کا ثمرہ : خدا تعالٰی نے حکما رسول اکرم ا کو پابند فرمایا کہ تیری بعض خوبیاں جو میری نظر میں ہیں تیرے غلاموں کا بھی حق ہے کہ ان کو پتہ چلے اس لئے کہ تاکہ وہ تمہاری پیروی کر کے مجھ تک پہنچنا سیکھ جائیں۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ اپنا سب کچھ دیدے چنانچہ انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دینے کی خاطر یہ سوچتے سوچتے کہ ہم اور کیا دیں اور کیا دیں اپنی اولادیں بھی پیش کرتے ہیں بعض دفعہ ابھی اولاد پیدا بھی نہیں ہوتی کہ وہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ار کی بھی یہ سنت ہے انبیاء کے علاوہ جیسے حضرت مریم کی والدہ نے یہ التجا کی خدا سے: رب الى نَذَرْتُ لَكَ مَا نِي بَطْنِي مُعَذَا فَتَقبل مني إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (سورة آل عمران آیت (۳) کہ اے میرے رب ! جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کر رہی ہوں۔مجھے نہیں پتہ کیا چیز ہے لڑکی ہے کہ لڑکا ہے اچھا ہے یا برا ہے۔مگر جو کچھ ہے میں تمہیں دے رہی ہوں فتقبل منی مجھ سے قبول فرما۔إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تو بہت ہی سننے والا اور جانے والا ہے یعنی سنتا ہے اور علم رکھتا ہے اس مضمون کا الگ تعلق ہے اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال یہ دعا حضرت مریم کی والدہ جو آل عمران سے تھیں کی خدا تعالی کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاء کی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق یہ ساری قرآن کریم میں محفوظ فرمائیں۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا ہے محررا اے خدا میں تیری راہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں۔لیکن با اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا ! جو نعمت تو نے مجھے دی ہے وہ میری اولاد کو بھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رنگ میں دعا کی۔لیکن حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو جو انعام مانگا جا رہا ہے وہ وقف کامل ہے۔کامل وقف کے سوا نبوت ہو نہیں سکتی اور سب سے زیادہ چنانچہ بنی نوع انسان سے آزاد یعنی محرر اور خدا کی غلامی میں جکڑا جانے والا نبی ہوتا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولاد میں نبوت کو جاری فرما تو اس دعا کا حقیقی معنی یہ ہے کہ میری اولاد کو ہمیشہ میری طرح غلام در غلام در غلام بناتا چلا جا۔اپنی محبت میں اور اپنی اطاعت میں جکڑتا چلا جا اتنا کامل طور پر جکڑنے کو ان میں کوئی بھی آزادی کا پہلو نہ رہے۔تو محررا کے مقابل دنیا سے آزاد کر کے میں تیرے سپرد کرتی ہوں۔یہ مضمون اور بھی زیادہ بالا ہے وقف کا کہ میری اولاد کو تو اپنی غلامی میں جکڑ لے اور ان کا کوئی پہلو بھی آزاد نہ رہنے دے۔بہر حال یہ بھی ایک پہلو ہے کہ جو کچھ تھا وہ تو دیا خدا کی راہ میں لیکن جو ابھی ہاتھ میں نہیں آیا وہ بھی پیش کرنے کی تمنا رکھتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چلہ کشی کی تھی وہ بھی اسی مضمون کے تحت آتی ہے۔آپ چالیس دن یہ گریہ و زاری