تحریک وقف نو — Page 14
19 18 اور اتنی کامل ہے کہ اگرچہ صحیح کی محبت کی تعلیم بھی بہت ہی حسین ہے بہت دلکش ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن جب مقابلے پر پر رکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ اس چہرے پر نور نہیں رہا۔پھیکی پڑنے لگ جاتی ہے اسلام کی تعلیم کے مقابل پر لیکن ہرگز اپنی ذات میں وہ حسن سے خالی نہیں بہت ہی پیاری بہت ہی دلکش تعلیم ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر اسلام نے محبت کی تعلیم اس انسانی زندگی کے ہر جزو میں داخل کر دیا ہے۔اس تفصیل کے ساتھ آپ کو کسی اور مذہب میں محبت کے فلسفے کا بیان نہیں ملے گا۔فرمایا : لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم نیکی کو جانتے ہی نہیں تمہیں پتہ ہی کیا ہے نیکی کیا ہوتی ہے اگر یہ بات نہ سیکھو کہ خدا کی راہ میں سب سے اچھی چیز سب سے پیاری چیزنہ قرآن کرنی شروع کر دو یا خدا کی راہ میں اپنی سب سے پیاری چیز دینے کی تمنا اگر تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو تم نیکی کو نہیں جانتے۔آنحضرت ا کی محبت الہی کا درجہ کمال: اس کسوٹی پر جب ہم انبیاء کو پر کھتے ہیں اور خصوصاً حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں یہ چیز درجہ کمال کو پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔بہت سے انسان ایسے ہیں جو محبت کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھی چیز پیش کرنی چاہئے اور پھر سوچتے ہیں اور مترور رہتے ہیں کہ یہ پیش کروں یا وہ پیش کروں یہ پیش کروں کہ وہ پیش کروں۔چنانچہ صوفیاء کے بھی بہت دلچسپ واقعات اس میں ملتے ہیں اور عام دنیا میں محبت کرنے والوں کے بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں ایک خیال آیا کہ یہ مجھے چیز زیادہ پیاری ہے۔پھر خیال آیا کہ نہیں یہ زیادہ پیاری ہے پھر خیال آیا کہ یہ زیادہ پیاری ہے اور پھر آخر میں وہی پیش کی۔چنانچہ ہمایوں کے متعلق بھی باہر نے جب یہ سوچا کہ ہمایوں کی زندگی بچانے کے لئے میں خدا کے سامنے اپنی کوئی پیاری چیز پیش کروں تو کہتے ہیں کہ باہر اس کے گرد گھومتا رہا اس نے سوچا کہ میں یہ ہیرا جو مجھے بہت پیارا ہے دے دوں پھر خیال آیا کہ ہیرا کیا چیز ہے میں یہ دے دوں پھر خیال آیا کہ پوری ساخت مجھے بہت پیاری ہے میں پوری سلطنت دے دیتا ہوں اور پھر سوچتا رہا۔پھر آخر اس کو خیال ایا اس کے نفس نے اس کو بتایا کہ تجھے تو اپنی جان سب سے زیادہ پیاری ہے اس وقت اس نے یہ عہد کیا اور خدا سے دعا کی کہ اے خدا واقعی اب میں سمجھ گیا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ پیاری چیز میری جان ہے۔اے خدا ! تو میری جان لے لے اور میرے بیٹے کی جان بچالے تاریخ میں لکھا ہے کہ واقعہ اس وقت کے بعد سے پھر ہمایوں کی صحت سدھرنے لگی اور بابر کی صحت بگڑنے لگی۔تو لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیا چیز پیاری ہے اور کیا کم پیاری ہے۔آنحضرت نے یہ نہیں سوچا بلکہ اپنا سب کچھ پیش کر دیا۔اپنا سونا جاگنا اٹھنا اور بیٹھنا کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے اور جب وہ زیادہ پیارٹی چیز دیتا ہے تو اس کے دل میں ایک المیت این رو جاتا ہے کہ کچھ کم میں نے اپنے لئے بھی روک لی ہے۔اس سے کم جب پیاری دے دیتا ہے تو پھر اس کو کچھ نہ کچھ اپنے ہاتھ میں بھی دکھائی دیتا ہے اور وہ پھر اس کے بعد سب سے پیارا ہو جاتا ہے جو چیز پیچھے بہتی چلی جاتی ہے وہ زیادہ پیاری ہوتی چلی جا رہی ہوتی ہے کسی ماں کا سب سے لاڈلہ بچہ مرجائے تو دوسرے بچے سے پہلے سے بڑھ کر پیار ہو جاتا ہے اور یہ مضمون انسانی فطرت کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔پس آنحضرت نے یہ سودا نہیں کیا کہ اے خدا ! میں نے اپنی سر زیادہ پیاری چیز پیش کر دی یعنی اپنی جان دے دی اس لئے اب باقی چیزیں میری رہ گئیں بلکہ فرمایا قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُكَي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي الله رب العلمین کہ اے محمد اتو ایک محبت کرنی سکھا ان غلاموں کو یہ تیرے غلام بن چکے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کس طرح مجھ سے محبت کی جاتی ہے۔تو محبت کے راز بتا ان کو۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا حکم