تحریک وقف نو — Page 13
17 16 میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں نے اپنے سیدو موٹی فخر الانبیاء اور خیر الورٹی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی ﷺ کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے کہ بچی اور کامل پیروی آنحضرت ہی ہے کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے" اور میں اس جگہ یہ بھی بتاتا ہوں کہ یہ ہے راز ساری باتوں کا جس پر اگر ہر چیز کی تان ٹوٹتی ہے۔میں نے اس سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر پڑھ کر سنائی تھی اس میں یہ نکتہ بیان فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت کا آخری نقطہ دل میں پیدا ہوتا ہے، اس کا دماغ سے تعلق نہیں ہے اور وہی بات رسول اکرم ﷺ کی پیروی کے متعلق آپ بیان فرماتے ہیں:۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بیجز پیروی بی سی کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پا سکتا ہے اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو کچی اور کامل پیروی آنحضرت ﷺ کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سو یا د رہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے۔پھر اس کے بعد ایک منفی اور کامل محبت الہی باعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت الارے کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔" ( حقیقتہ الوحی صفحہ ۱۳۷) اس مضمون کے جو چند پہلو میں آج بیان کرنا چاہتا تھا۔ایک تو وقت تھوڑا ہے دوسرے ان میں سے چند کا بیان بھی سر دست ممکن نہیں ہے۔لیکن میں نے آپ سے گذشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا کہ میں ایک تحریک جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔محبت الہی کی وسیع اور کامل تعلیم : حقیقت یہ ہے کہ محبت کے نتیجہ میں انسان، تحائف پیش کرتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ہر اس چیز کے ساتھ جو خدا کی راہ میں پیش کی جاتی ہے محبت کی شرط لگا دی بلکہ نیکی کی تعریف میں محبت کے تھے کو بطور شرط کے داخل فرما دیا۔فرمایا: لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا ما تحبون تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے نیکی کی باتیں کرتے ہو تمہیں پتہ کیا ہے کہ نیکی کیا ہے۔تم نیکی کی گرد کو بھی نہیں پا سکو گے۔اگر یہ راز نہ جان لو کہ خدا کے رستے میں وہ چیز پیش کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔اپنی محبوب چیزوں کو خدا کی راہ میں پیش کرنا سیکھو۔پھر تم کہہ سکتے ہو کہ ہاں ہم نے نیکی کا مفہوم سمجھ لیا ہے یہاں بھی محبت ہی کا مضمون جاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے بعض دفعہ عیسائیوں کے اس ادعا پر کہ اسلام کو محبت کا کیا پتہ محبت کی تعلیم تو عیسائیت نے سکھائی ہے۔اس ضمن میں حضرت مسیح کی تعلیم کے کچھ اقتباسات میں ساتھ لے کر آیا تھا مگر اب ان کو پڑھ کر سنانے کا وقت نہیں ہے۔آپ خود ان کو پڑھ کر دیکھیں آپ کو نمایاں فرق محسوس ہوگا کہ اسلام کی محبت کی تعلیم اتنی وسیع