تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار — Page 32
کا فرض ادا کرنے گئے تھے مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتانه بند دو جنسیت میں کوئی خوشگوار تبد یلی گورگانا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں آخر میں نے لندن ہی میں بود و باش کا فیصلہ کر لیا : ر قائد اعظم اور ان کا هر صفحه ۱۹۱ -۱۹۲ مولفہ مولانا انیس احمد جعفری ) قائد اعظم کے اس فیصلہ سے کانگریسی ہندو اور کانگریس نواز مسلمانوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا مگر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کا دردمند دل تھا اس صورت حال کو دیکھ کر تڑپ اٹھا کہ مسلمانان ہند اپنے ایک محبوب سیاسی لیڈر گی براہ راست قیادت سے محروم ہو گئے ہیں اور سلم نسیاست پر وہ لوگ مسلط ہو رہے میں جومسٹر گاندھی کو پالتو بنی مانتے ہیں چنانچہ امیر شریعیت احرار میده عطا اللہ شاہ بخاری نے مسجد خیرالدین امرتسر میں گیا میں مسٹر گاندھی کو بنی بالنقود منت ہوں (اخبار اتفاق و ذوالفقار بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحه ۱۳۹-۱۴۰ مولف سید محمد طفیل شاہ صاحب ) ایک اور موقعہ پر مهاتما گاندھی کو موسی وقت قرار دیتے ہوئے کہا :- با تشبیہ اور بے تمثیل مہاتما کا میم اور سوسنی کا میم برا بر ہے ہر فرعونے راموشی ر متقدمات امیر شریعت صفحہ ۲۸۰۲۷ ناشر مکتبہ (دیار) بعد ائیاں امیر شریعیت احرار نے تو ایک بار کس کر اپنے خطرناک عزائم کا یوں اظہار بھی کر دیا ؟۔بلاشبہ پنڈت جواہر لال نہرو جی نے بھی یہ آزادی کا جھنڈا بند کیا