تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 8
غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے وہ اس کریں حضور کا یہ کیش کو قبول کر کے آئندہ نسلوں پر احسانِ علی خطبہ جمعہ اور اس کا انگریزی ترجمہ دونوں ہندوستانی لیڈروں تک پہنچا دیا گیا۔! مشہور اہلحدیث عالم جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اخبار اہلحدیث میں اس خطبہ کے بعض اقتباسات دے کر یہ تبصرہ فرمایا : " یہ الفاظ کس جرات اور حیرت کا ثبوت دے رہے ہیں۔کانگرسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے۔چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے وہ گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے گا " (المحدیث امرتسر ۶ جولائی ۶۱۹۳۵ مت) سیاسی لیڈروں کی کانفرنس ۲۵ جون سے لے کر ۱۶ جولائی ۱۹۴۵ء تک جاری رہی۔قائد اعظم محمدعلی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ نے انتہائی کوشش کی کہ کسی طرح کانگرسی لیڈر لا ہور ریزولیوشن کے مطابق مسلمانوں کے حق خود ارادیت کی گارنٹی دیں اور ملک میں ایک عارضی قومی حکومت قائم ہو جائے مگر کانگرس اس پر آمادہ ہونے کے لئے تیار نہ ہوئی۔قائد اعظم کی طرح حضرت امام جماعت احمدیہ کا بھی خیال تھا کہ اگر ہند و کانگرس مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرلے تو ملک میں ایک قومی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔الفضل ۲۲ اکتوبر ۶۱۹۴۵ ص ) د المختصر جب مفاہمت کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو وائسرائے ہند لارڈ ویول نے 19 ستمبر ۱۹۲۵ء کو ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔اس پر قائد اعظم محمدعلی جناح نے مسلمانان ہند کے نام پیغام دیا :- را " ہمارے پیش نظر اہم مسئلہ آئندہ انتخابات کا ہے موجو دہ حالات میں انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔انتخابات ہمارے لئے ایک آزمائش کی صورت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم