تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 90 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 90

بالا خریہ بتانا ضروری ہے کہ ہمارے مصلح ربانی کیلئے ضرور زمان انتقاد تحریک حریت پرتنقید کرتے ہوئے اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتے کہ انیسویں صدی کا نصف آخر جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دعوئی ماموریت فرمایا پکار پکار کہ ایک عظیم دینی مصلح کا تقاضا کر رہا تھا۔چنانچہ جناب سید ابوالحسن علی صاحب ندوی لکھتے ہیں۔اس عہد کا سب سے بڑا واقعہ جس کو کوئی مورخ اور کوئی مصلح نظر انداز نہیں کر سکتا۔وہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں یورپ نے عالم اسلام پر بالعموم اور مہند دستان پر بالخصوص پورش کی تھی۔۔عالم اسلام ایمان، علم، مادی طاقت میں کمزکو ہو جانے کی وجہ سے اس نوخیز و سلح مغربی طاقت کا آسانی سے شکار ہو گیا۔۔۔۔۔دوسری طرف عالم اسلام مختلف دینی و اخلاقی بمیاریوں اور کمزوریوں کا شکار تھا۔اس کے چہرہ کا سب سے بڑا داغ وہ شرک خیلی تھا۔جو اس کے گوشہ گوشہ میں پایا جاتا تھا۔قبریں اور تعزیے بے تحاشہ بیچ رہے تھے۔غیر اللہ کے نام کی صاف صاف دہائی دی جاتی سنتی۔بدعات کا گھر گھر چپ چا تھا۔خرافات اور توہمات کا دور دورہ تھا یہ صورت حال ایک ایسے دینی مصلح اور داعی کا تقاضا کہ رہی تھی۔جو اسلامی معاشرہ کے اندر جاہلیت کے اثرات