تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 95
۹۵ آنے والے مسیح و مہدی کو اپنوں کے تنقیدی نشتروں اور بیگانوں کی مرات کے درمیان سے اپنا رستہ بنانا پڑے گا۔اور جب تک روئے زمین پر کفر، باطل اور بدعت کا اقتدار قائم ہے اس کے چپہ چپتہ پر روحانی و علمی جنگ جاری رہے گی : اسی خدائی سنت کے مطابق حضرت حضرت مسیح موعود کا نعرہ جہاد میں موجود مالیات کلام نے اپنے دعوئی مسیحیت کے ساتھے ہی اعلان فرمایا کہ سچائی کی فتح ہو گی۔اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور خوشی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے پڑھنے سے رو کے جبتک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگہ خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعرانہ اسلام کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کرلیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ انگتا ہے وہ کیا ہے ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہیں موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانو کی زندگی اور خدا کی تجلی موقوف ہے نہ ملے 14 سے فتح اسلام ما ;