تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 94
۹۴ عزت و آبرو اور جان و مال پر حملہ کیا گیا۔رستے میں کانٹے سمجھائے گئے تین سال تک ایک گھاٹی میں محصور کر کے بائیکاٹ کیا گیا۔گردن مبارک پر او بھری ڈالی گئی۔وطن سے نکال دیا گیا۔غاروں میں پناہ لینے پر مجبور کئے گئے۔تلواروں اور نیزوں سے حملے کئے گئے۔حتی کہ طائف کے لوگوں نے آپ کے مقدس اور نورانی وجود پر پتھروں کی ایسی شدید بارش کی کہ آپ سر سے پاؤں تک خون سے تر بتر ہو کر بیہوش ہو گئے۔ان بے شمار مصائب و شدائل سے دو چار ہونے کے بعد تب کہیں خدا کی آسمانی بادشاہت زمین پر قائم ہوئی۔اقتدار کفر و باطل کے خان پس آپ کے بعد بھی کوئی ایسا مائیں روحانی و علمی جنگ نہیں آنکتا جس کا خیر مقدم عقیدت کے پھولوں ، گھی کے چرا خوں اور خوشی کے شادیانوں سے ہونے والا ہو۔جس کے آتے ہی دُنیا کے سب مذاہب اقتدار کی کرسیاں آسانی کے ساتھ حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کے کسی خادم کے حوالہ کر دیں۔اور جس کا چہرہ دیکھتے ہی دنیا بھر کے مذہبی وسیاسی لیڈر فور حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں۔اور وہ روحانی انقلاب جس کے لئے بعض اوقات خدائی جماعتوں کے لئے قرنوں کی جد و جہد اور صدیوں کی قربانیاں بھی نا کافی ہوتی تھیں۔چشم زدن میں پوری دنیا میں یہ پا ہو جائے یقیناً یقینا ایسا نہیں ہو سکتا۔بلکہ جیسا کہ پہلے نوشتوں میں بتایا گیا ہے