تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 62
رجوع سے بھی مل سکتی ہیں اور مل جاتی ہیں۔اس کے مقابل انہیں اُن سینکڑوں پیش گوئیوں کا ذکٹر تک کرنے کی توفیق نہیں ہوتی جو خدا کے فضل سے پوری ہو چکی ہیں اور اگر کہیں مجبوراً ذکر کر پالتے ہیں تو اسے محض اتفاق کا نتیجہ بتاتے ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی " زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار پہلی جنگ عظیم میں اس شان سے پوری ہوئی کہ ایک محقق کے لئے صرف یہی ایک نشان حق و صداقت کی طرف رہنمائی کے لئے کافی ہے صاف دل کو کثرت اعجانہ کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کر دگار مگر جناب مولوی ظفر علی خان اس پیشگوئی کے ظہور کو محض اتفاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے زار کی لفظی رعایت نے یہ سمجھایا تھا قول زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال ندارد بعد مُردن اتفاقاً چھڑ گئی جنگ فرنگ رنگ لائی مدتوں میں گردش لیل و نہار زار سے چنوا دیا قسمت نے اس کا تخت تاج کیوں کے قسمت کا نہیں دنیا میں کچھ بھی اعتبار عال اس کو غیب کے اسرار کا معلوم ہے۔نه بادشاہی اور گدائی پر ہے جس کا اختیار - له ارمغان قادیان من 19