تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 22 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 22

۲۲ کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی رحمہ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص صحت کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا۔کہ بڑے شوق سے بحث کیجئے۔شرط صرف یہ ہے کہ نیت نیک ہو۔اس شخص پر اس نصیحت کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہ مناظرہ سے ہی دستکش ہو گیا۔حتی یہ ہے کہ اس دین میں تنقید برائے تنقید کی گنجائش ہی کہاں ہو سکتی ہے جس کی آسمانی کتاب الذينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ احسن کی زریں ہدایت دیتی ہو۔جس کے نبی کا مل نے قدمَة الحِكْمَةِ صالة المُومِنِ" کا زریں اصل بیان فرمایا ہو۔اور جس کے صلحاء انظروا إلى مَا قَالَ وَلا تَنْظُرُوا إلى مَنْ قَالَ" کا مسلک رکھتے ہوں۔انکہ ہمارے معاشرہ میں فری انتقاد کا جو معیار ہمارا معاشرہ اور قائم ہو چکا ہے۔اس کا اندازہ سیرت کمیٹی فن انتقاد کے بانی جناب عبدالمجید فضا قرشی مرحوم کے ایک تمدید واقعہ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا شخص بازار سے گزر رہا تھا۔ایک شخص بولا نیو کیسی نورانی صورت ہے۔وکاندار نے کہا۔اچھی یہ تو مرزائی ہے۔اب تعریف کرنے والا چپ ہو گیا۔اور دو ایک منٹ کے بعد بولا۔تبھی اس کے منہ پر