تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 75
LA اور دین توحید کا دعوے کرنے والوں نے بت پرستی کی ساری ادائیں اور چالیں اختیار کر لیں۔اور جس رات اور عزئی کی کچھ جیا سے دنیا کو نجات دلائی گئی تھی۔اس کی پوجا پھر سے شروع ہو گئی یا نہ یہ ہے وہ سوادِ اعظم جس کے معتقدات و افعال میں رنگین ہونے کی ہمارے معزز و محترم نقاد وحدت افکار کے نام سے ہمیں عوت دے رہے ہیں۔۔۔۔۔ایک نے دوست قرآنی قسم یا قرآن مجید نے عظیم الشان صداقت بیان کی ہے کہ انزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاء فَسَأَلْت أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا الا و الرعد، یعنی خدائی ستحریکات سے ہر شخص اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق شعوری یا غیر شعوری طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔اور اس کے علم کلام سے متاثر ہوتا ہے۔یہ علیحدہ امر ہے کہ اس کے اقرارہ کی اُسے اخلاقی جرات ہو یا نہ ہو۔چنانچہ جناب مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- راجب و حی آسمانی دین حق کو لے کہ اُترتی ہے تو قلوب بنی آدم اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے موافق فیض حاصل کرتے ہیں که تذکره صفوعش ۲۷