تحدیث نعمت — Page 680
۶۸۰ محض س وقت کی تار تھا کہ پرائویٹ علقات میں روشی ای کس بات کے تھے اور من پروپیگنڈا کیا کچھ نہیں کراتے تھے بھی مکن ہے کہ سور پورٹ انہیں میرے متعلق پہنچائی گئی ہوا کے نیچے میںانہوں نے میرے ساتھ صفائی سے بات کی ہو۔تھے۔والله اعلم بالصواب تاشقند ازبکستان ماسوس تم تاشقند گئے واکستان کادارلحکمت ہے یا اسفرائی نوٹ کے طیارے تھا نوک وس کا اپنا اقا اوراس کے زیراقتدار علاقے مشرق برین سے لیکر ولاڈی اسٹاک تک پھلے ہوئے ہیں اور ان علاقوں کے درمیان سفرکرنے کے لئے ویل مسافت طے کرنی پڑتی ہے الا سفر زیادہ تر ہوائی جہازوں سے ہوتا ہے۔ہوائی جہازوں کے کوائے اندرونی منظر یے بین الاقوامی کرایہ کی بہت سے میں روسی ہوائی جہادی کی راتا تو تین کی آرام اور صفائی کا معیا اس درجے محسوس بھی نہیں کرتے۔of Socialist UNION روس کی حکومت کی تشکیل عاد فاقی طریق پر ہے مل کا موجودہ سرکاری نام - VIET REPUBLICS ہے یعنی متحدہ اشتراکی جمہوریت ہیں۔ان جمود میتوں کی تو جمہوریتوں تعداد وہ ہے یہ مورتی ا اندرونی نظام کے ان سے ادا کی جاتی ہیں میں سودی یا یری ناو یاری و امدادی رکن بھی ہیں از کیستان کی جمہوریت کا حلقہ بہت وسیع ہے مشرق میں فرانہ اس میں ناشتن مر میں سمرقند اور بخارا کے علاقے سب اس میں شامل ہیں وسطی ای جمهوری روی خود جمہوریتوں میں شال بیان میں کیا کہتا ہے ان جمہوریتوں کی زبانوں میں بہت مد یک اشتراک پانی بنیاد تر ک ہے اوران می عربی فارسی ترکی کے بہ سے الفاظ میں تاجیکی زبان کے متعلق کہاجاتا ہے کر شفاء تک ایک اردو جانے والے کیلئے ایک یا ان کی زبان سیکھنا نہایت آسان تھا کیونکہ اس وقت تک ان زبانوں کا رسم الخط فارسی تھا کے قریب اس کی بجائے لاطینی رسم الخط کو رواج دیا گیا اور دوسری عالمی جنگ کے دوران میں لاطینی رسم الخط کو ترک کرکے درسی رسم الخط کو رائج کیاگیا جس کے نتیے میں ان جمہوریتوں کی زبانوں اور فارسی اور اردو کے درمیان ایک روک پیا گی اور ان کے سر کے رت بھی اگر تعلیمیافته ای یا ما فارسی زبان میں چھن چھ سات ضرور رکھے تھے میریوں کی آبادی مسلما ہے نام بھی سلام میں رومانوی حصے کو اسی شکل دیدی جاتی ہے۔مال مفتی اعظم تاشقند ای یارایی والا بنانا ہے لیکن بولنےاور لکھنے بنیادی با ابولا دیکھا جاتاہے۔ان کے معنی عظم بھی میں اس کی ایشیاء کے اسلامی ثقافتی بورڈ کے در بھی انسے پہلے انکے والد مر و مفتی ناشتہ تھے اور توقع کی جاتیہے کہ ان کے بعدان کے فرزند اکران کے جانشین ہوں گے۔تاشقند میں بھی ہم حکومت ہی کے مہان تھے اور ہمارے میزبان از کستان کے وزیہ خارجہ جناب علموں تھے۔ہمارے تاشقند پہنچے پر انہوںنے مطار پر مارا استقبال کیا ملا قیام ناشتند ولی میں تاتام کیا تو معلوم ہو کہ ہول کے علمیں کرانے کی ناکامیوں کو تو کیا یہ امی می پنداری