تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 679 of 736

تحدیث نعمت — Page 679

969 افسوس ہے کہ فریق ثانی اسے حل کرنے پر آمادہ نہیں۔ظفراللہ اگر ہم اور مشکل سائل کے حل کرنے میں باہر ٹھوس روی سال میں تو کیا یمکن نہیں کہنا آسان مسائل بن کا ان اسکان نظرات کو کم کرنے کی طرف توجہ دی جاے اس یا ہوا یا مارتا رہے گا ور زیاد شکل سائل پینی نیز بادلہ خیال ہوسکے گا ملایر انداز ہے کہ NUCLEAR TESTS کی بوندی کے متعلق فیصل کر نے لئے کے فریقین اسقدر قریب آچکے ہیںکہ تھوڑی سی مزید کوشی سے اتفاق کی منی پیرامون کی امید کی جاتی ہے۔مر خوشی مشرقی جرمنی کے مسلے کی امت پر زور سے ہے میں نے گذارش کیا ایسے مسائل کے حل میں تو شیطانوں یں موجب افتراق میں پاکستان سے چھوٹے ملک کی حثیت نہیں کہ امامت کرنےکیلئے کوئی اقدام کر کے البت اس سے برامد کی جاسکتی ہے کسی معقول تونہ کی تائی می پنی آواز بلند کے۔خوشی اونے فرمایا پاکستان چھٹا ملک نہیں۔دس کرویران نہیں پانچ کرور عمل میں چھوٹا ملک کیے؟ میں نے عرض کیا مشکی کروانا ا ا ا ا ا ن اور نا ہی لیکن ڈھائی کرد و عمال مرور ہیں مگر تربیت فن اور اوزار ؟ اس سوال و جواب سے گفتگو کا رخ پکستان کی طرف پر کیا اور خوشی کی گفتگو کایہ تھا۔اکتان کے وزیر صنعت (ذوالفقارعلی بھٹو صاحب) یہاں آئے۔انہوں نے جو چاہا دیکھا ومعلمات وہ چاہتے تھے انہوں نے حاصل یا اس کے القانون و نیکی کا اظہار کا میانمارتا ین تویوں کے علی کی ہے وہ ہمارے تعاون کی بیان کر دیا تھاکہ کی امید کی ایک کرسکتے ہیںلیکن جب وہ اس کی است ا ا ا ا ا ا ا ا ر انہوں نے کراتے ہوے این ا س م ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا امکان ہے پاکستان کی حکومت و بارے اولانانے کا خواند و این در کار اس کے کام کو دین دین سے دیکھا گیا اور اس نے بات وہی کی لئے میں گئی مینی گذارش کی مجھے حکومت پکستان کی طرف سے تک کے کو کوئی ای ای یار یار یار یہ ہیں کہ کوئی صورت نے سنگی ا ہے انہوں نے ان تکرار کرار کیا میں نے عرض کی کہ گیت کے بارے میں اسے کھانے کی کوش کردوں گا۔اس پر پھر کرنے اور امام مجھے تہار بہت پرپورا اتارے اور تہار کے لفظ پر اور زور دیا۔اس وقت تک گوادر ی را از دیدار جو پیار کی تھی میں تصور ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ورم بھی مردوں کے چہرے بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں۔لیکن تیری تصویر میں دونوں چرے بشاش اور سکراتے نظرآتے ہیں۔جب نیو یارک واپسی پر سے ارتقائے کار نے دریافت کیا مرنر شیف کے ساتھ لاتا کیسی ہی تو میں نے تصویری ان کے سنتے رکھ دیں اور کہ ان سے اندازہ کر لیجئے۔جب اس گفتگوی قریبا نصف گھنٹہ گزر گیا تومیں اس کوشش میں رہا کہ مناسب موقعہ آنے پر کریے کے ساتھ رخصت طلب کروں لیکن اب گفتگو کی عنان سرخود شیف کے ہاتھ میں تھی اور جب رخصت طلب کرنے کا موقعہ ملات ملاقات 0 منٹ تک طول یکی یکی ی ایک گنے کے کو روس کی ملاقات کے تھے میں ایسی شخصت کے معی کوئی وی رائے عام کرنا مکن نہیں البتہ میر