تحدیث نعمت — Page 575
موسی وادرج :- آپ ایک کریں تو میں نہایت منون ہوں گا ور میری حکومت ھی شکر گذار ہوگی۔میں بہت شکریے کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔ظفر اللہ خاں : - ذرا ٹھہریے میں ایک بیا آپ کوبتانا چاہتا ہوں۔اسی احد بالا فریج نیو یارک می مجھ سے ے اور کہا میرے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے والی ہے اورمجھے یقین ہے کہ گرمی پاسپورٹ کی توسیع یا خدا کے لئے پیرس بار بار گیا تو مجھےنظر بند کر دیا جائے گا۔اور میں واپس نہ آسکوں گا۔آپ کی آپ کی گفتگو سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ ان کا خدشہ کا تھا۔اور میں نے اچھا کیا کہ انہیں پاکستانی پاسپورٹ دیدیا۔اچھا سیفر صاحب خدا حافظ ! تونس اور مراکش کے قضیے اسمبلی در محلی امن کے بحث مباتوں کے چکر سے گذر کر آخر این اتا کوپہنچے اور یہ دونوں 140 ملک فرانس کے پنجے سے آزاد ہوئے پر شہداء میں تو ان ملکوں کی آزادی کے حامی اراکین اس مسئلہ کو اسمبلی کے ایجنڈے میں ال کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے تھے لیکن دس سال بعد الاء میں سید مونجی سلیم جو اس وقت اقوام متحدہ میں تونس کے منتقل نمائندے تھے اور بعد میں تونس کے وزیر خارجہ ہوئے اقوام متحدہ کی املی کے صدر منتخب ہوئے۔الزائمہ کی آزادی الجزائر کواپنی آزادی کیلئے ایک لما ر ہ جدوجہد کرناپڑی اور جب فرانی امن اور مصالحت کے طریق سے کسی فیصلے پر آمادہ نہ ہوسکا توں اچار تیار باری کا معلم پیش آیا۔تونس در مراکش کی آزادی کے بنتے ہیں الجزائمہ کی آزادی لازم ہو چکی تھی۔فرانس کی ضد اور ہٹ دھرمی نے الجزائری محبان وطن کوسر فروشی اور جام شہادت کے نوش کرنے کا چیلنج دیا جسے الجزائر کے ہر طبقے کے مجاہدین نے بعد شوق قبول کیا اور ایسی تمت، تمرات ، شجاعت ، مرا در استقلال سے آزادی کی مہم کو چلایا کہ ساری دنیاکی طرفسے آفرین کا خراج پیش ہوا۔آخر خود فرانس میں انقلابی علا رونما ہوئے اور تنزل ڈیگال پر سر اقتدار آئے۔انہوں نے بہت دلیری اور فراست سے الجزائر کے قضیے کو طے کرنے کی انی را با تور داخلی اور خارجی مشکلات کے فراوانی کی کمی کا ارادہ کرکے الایہ کواس کا بنیادی حق دینے اور فرانس کو ایک ایسی شکل سے رہائی دلانے کی صورت پیدا کر لی جو فرانس کے لئے سوہان روح بن رہی منفی فجزاه الله۔مالی افریقہ کے ان چار ملک کو اس جدو جہد میں جس نے مختلف شکلیں اختیار کی پاکستان کی پوری تائید اور یری ہمدردی حاصل ریا اور صرف اقوام متحدہ کہا کہ پاکستان کی ان سے اپنی دوستی اور اغوت کا عملی ثبوت پیش ہوتا رہا۔فرانس کی حکومت پاکستان کے موقف اور پاکستان کے اقدامات سے واقف تھی اور اگر یہ اکستان نے کوئی موقع ان مالک کی آزادی کی بدو بد کو کامیاب کرنے کا ہاتھ سے نہیں دیا لیکن فرانس کی حکومت کی نگاہ عی پاکستان کا وقار یہ بتا ہی گیا۔