تحدیث نعمت — Page 576
064 اء کے اکتوبر میں سربی این راؤ جو اس وقت اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ تھے بین الاقوامی عدالت کے جچ منتخب ہوئے ان کی جی کی 9 سالہ میعاد در فروری شاہ کو شروع ہوئی لیکن ابھی دو سال بھی نہ۔۔۔۔* گزرنے پائے تھے کہ انکی وفات ہوگئی۔ان کی جگہ پر کرنے کے لئے جو انتخاب ہوا اس میں پاکستان کی طرف سے مجھے بھی نامرد کیا گیا تھا۔اس زمانے میں پرس میں پاکستانی سفر محمداکرام اللہ صاحب تھے وہ اس سلسلے میں مسٹر پا رودی سے ملے تو اس وقت فرانسیسی وزارت خارجہ کے جنرل سیکہ بیڑی تھے جب انہوں نے سفیر صاحب سے میرا نام سن تو فرمایا جناب سفر صاحب ظفر اللہ خان کی نسبت مجھ سے مزید کچھ کہنے سنے کی آپ کو حاجت نہیں۔میں اسے ان دنوں سے خوب جانتا ہوں جب کشمیر کا مسلہ ملیں ان میں پیش ہوا تھا۔میں اس وقت اقوام متحدہ میں فرانس کا منتقل نمائندہ تھا میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ظفر اللہ خاں غلط بات نہیں کہتا اور ہمیشہ انصاف کو مد نظر رکھتا ہے۔میرے خیال میں وہ بین الاقوامی عدالت کی جی کے لئے نہایت موزوں ہے۔میں کچھ دن بعد اس معاملے کے متعلق حکومت کے تائیدی فیصلے کی اطلاع آپ کو دیدوں گا۔الجزائر کی جد جہد کے دوران ایک مرحلے پر سلطان مراکش نے استدر حدی بیلا انسان کے چار رفقا ا ا ا ا ا ا ا ا اور ان کے ساتھ الازار کے قضیے کے متعلق گفت وشنی کی جس کی غرض بینتی کشایر فرانس کے ساتھ سمجھوتے کی کوئی صورت پیدا ہوسکے۔رباط میں گفت وشنید کے بعد پانچوں اصحاب تونس کے صدر یاست السید حبیب بلور قتیبہ کی دعوت پر ایک فرانسیسی طیارے میں عازم تونس ہوئے۔الجزائر کے اوپر پر ان کے دوران الجزائر کی فرانسیسی حکومت نے پامیلا کو اسکی پیغام کے ذریعہ ہدایتدی کوہ فورا نیچے اتر آئے اورنیچے اترنے پرانیک بن بیلا اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا اور انہیں نظربند کر دیا۔جب اس احمقانہ حرکت کی اطلاع صدر تعیب ورقیہ کو ہوئی توانہوں نے فرانسیسی حکم کو سخت انتباہ کیا اور اس دران دوستی کے ازالے کا مطالبہ کیا اور بیت زد کر کے بعد قرار پایا کہ اس فتنے کا فیصلہ تین ثالثوں کے سپرد کیا جائے جن میں سے ایک کو فرانس نامزد کرے دوستے کو تونسی اور میرا افریقین کے باہمی اتفاق سے نامزد ہو اور سی ٹائٹی بورڈ کا صدر بھی ہو۔میں اس زمانے میں بین الاقومی عدالت کا رکن تھا۔فرانس اور تونس نے اپنا انار کی نامزد کرنے کے بعداس اس پر اتفاق کی کہ میرا اور سالی بو کا صدر مجھے نامزد کیا جائے۔جب فریقین کی طرف سے اس خواہش کا اظہامہ ہوا میں نے کہاکہ میں توخوشی سے یہ خدمت پنے ذمے لینے کو تیار ہوں لیکن یہ درخواست عدالت کے صدر کی خدمت میں آنی چاہیے تاکہ وہ اراکین عدالت سے مشورہ کرنے کے بعد مناسب جواب دیں۔جب عدالت کے صدر پریذیڈنٹ گرین یک در حد کی خدمت میں فرانسیسی اور توسی سفراء نے اپنی پنی حکومت کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا تو صاحب صدر نے مجھ سے دریافت کیا کہ تم یہ خدمت اپنے ذمے لینے کو تیار ہو۔میں نے کہ مجھے تو کوئی غیر نہیں لیکن آپ دیگر اراکین عدالت سے مشورہ کر لیں مشورے کے بعد صاحت صدد